تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 558
تاریخ احمدیت۔جلد 23 558 سال 1966ء کینیا کے ممتاز ماہر تعلیم کی ایک تقریر اس سال کینیا کے ایک مخلص احمدی اور ممتاز ماہر تعلیم جناب عثمان کا کوریا کو حکومت کینیا کے مندوب کی حیثیت سے آسٹریلیا میں ماہرین تعلیم کی ایک بین الاقومی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔واپسی پر انہوں نے ۳۱ را گست ۱۹۶۶ء کو مرکز احمدیت کی زیارت اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی ملاقات کا شرف حاصل کیا۔حضور ایک مختصر سفر کے لیے راولپنڈی تشریف لے جارہے تھے اس لیے حضور نے انہیں راولپنڈی آنے کی ہدایت فرمائی۔یہاں یکم ستمبر کو حضرت خلیفتہ المسیح الثالث جماعت راولپنڈی کے درمیان نماز مغرب اور عشاء کے بعد رونق افروز ہوئے۔اس مجلس میں حضور نے موصوف کے قبول احمدیت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک احمدی دوست نے ایک افریقن عیسائی کو جماعت کی طرف سے شائع کردہ سواحیلی ترجمہ قرآن دیا۔لیکن اس شخص نے اسلام کے عناد کے باعث قرآن مجید کو قبول نہ کرنے کے علاوہ نہایت گستاخانہ رویہ بھی اختیار کیا۔مکرم عثمان کا کوریا بھی وہاں موجود تھے۔انہوں نے یہ دیکھ کر کہا کہ اگر یہ نہیں لیتا تو قرآن مجید مجھے دے دیا جائے۔چنانچہ اس طرح قرآن کریم اور دیگر لٹریچر کے مطالعہ سے اللہ تعالیٰ نے حق وصداقت کے قبول کرنے کے لیے ان کے دل کو کھول دیا اور وہ ۱۹۶۴ء میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی آغوش میں آگئے۔اس تعارف کے بعد حضور نے جناب گا کوریا کو کینیا کے بارے میں تقریر کرنے کا ارشاد فرمایا۔جس پر موصوف نے چند منٹ تک انگریزی زبان میں نہایت ایمان افروز تقریر کی۔آپ نے کینیا اور مشرقی افریقہ کے دوسرے ممالک میں جماعت احمدیہ کی مساعی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مشرقی افریقہ میں تبلیغ اسلام اور اشاعت قرآن کے لیے احمدی مبلغین نے جو قابل قدر مساعی سرانجام دی ہیں وہ افریقہ میں اشاعت اسلام کی راہ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔اسی مساعی کے باعث افریقہ میں اسلام کو دیگر مذاہب اور خصوصاً عیسائیت پر نمایاں برتری حاصل ہوئی ہے۔رسوم و بدعات کے خلاف امام وقت کا اعلان جہاد 108 9 ستمبر ۱۹۶۶ء کو سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے رسوم و بدعات کے خلاف جہاد کا اعلان فرمایا اور جماعت کو انتباہ فرمایا کہ بد رسوم اور ایمان کامل اکٹھے نہیں ہو سکتے دین کی اشاعت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور جلال کو دنیا میں قائم کرنے کے لیے جس قسم کی قربانی اور جس حد تک