تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 559 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 559

تاریخ احمدیت۔جلد 23 559 سال 1966ء قربانی دینا ضروری ہے جو شخص رسوم کے بندھنوں میں بندھا ہوا ہے۔وہ اس حد تک قربانی نہیں دے سکتا۔اس سلسلہ میں حضور نے خاص طور پر نظارت اصلاح وارشاد کو اس طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جتنی رسوم اور بدعات ہمارے ملک کے مختلف علاقوں میں پائی جاتی ہیں ان کو اکٹھا کیا جائے اور اس کی نگرانی کی جائے کہ ہمارے احمدی بھائی ان تمام رسوم اور بدعات سے بچتے رہیں۔جو شخص رسوم اور بدعات کو نہیں چھوڑ تا جس طرح اس کا ایمان پختہ نہیں اسی طرح وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد اور اسلام کی تقویت کے لیے وہ قربانیاں بھی نہیں دے سکتا جن قربانیوں کا اسلام اس سے مطالبہ کرتا ہے۔نیز فرمایا کہ ہر احمدی تنظیم پر یہ فرض ہے کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو رسوم اور بدعتوں سے بچائے رکھے۔محفوظ رکھے اور اس بات کی بھی نگرانی کرے کہ کوئی احمدی بھی رسوم ورواج کی پابندی کرنے والا نہ ہو اور بدعات میں پھنسا ہوا نہ ہو۔100 ڈاکٹر مر تو نو آف انڈونیشیا کی مسجد نور راولپنڈی میں آمد ستمبر ۱۹۶۶ء کے دوسرے ہفتے میں ایک مخلص انڈونیشی احمدی جناب ڈاکٹر مرتو نو انڈونیشیا کے ایک ثقافتی واقتصادی وفد کے ہمراہ پاکستان آئے۔اسلام آباد میں اپنے چار روزہ قیام کے دوران آپ نے ۲ ستمبر کو مسجد نور راولپنڈی کی ایک تقریب میں حاضرین سے خطاب کیا۔جس میں انڈونیشیا کی احمدی جماعتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان جزائر میں جماعت احمدیہ کی تعداد دس ہزار سے متجاوز ہے اور مغربی جاوا میں احمدیت کا اثر و نفوذ بہت زیادہ ہے۔ملک کے ذہین طبقہ پر احمدیت کے لٹریچر کا بے حد اثر ہے اور انہیں اسلام کے متعلق جب معلومات حاصل کرنی ہوں تو وہ ہمارے لٹریچر کا ہی مطالعہ کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات و کتب کے غیر معمولی جذب واثر کا ذکر کرتے ہوئے جناب ڈاکٹر مرتو نو نے اپنی مثال پیش کی اور کہا کہ میں ایک کھوئی ہوئی بھیڑ تھا اور اسلام سے کلیتہ دور جا چکا تھا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں اور خصوصاً اسلامی اصول کی فلاسفی کے مطالعہ نے میرے خوابیدہ ایمان کو بیدار کر دیا اور میں اسلام کی معرفت اور روحانیت کی چاشنی کو محسوس کرنے لگا۔بعد ازاں جناب ڈاکٹر مر تو نو صاحب موصوف اپنے وطن واپس جانے کے لیے ۴ استمبر کو بمع ارکان وفد بذریعہ طیارہ کراچی روانہ ہو گئے۔110-