تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 554
تاریخ احمدیت۔جلد 23 554 سال 1966ء احمدیہ پر انتہائی سوقیانہ اور دلآزار انداز میں اعتراضات کئے۔جن کا نہایت شستہ ، مدلل اور بر جستہ جواب مولوی محمد اجمل صاحب شاہد ایم۔اے مربی سلسلہ احمدیہ مقیم کراچی کے قلم سے ”الفرقان“ (ستمبر ۱۹۶۶ء) میں شائع ہوا۔یہ ایسا مسکت جواب تھا کہ ماہر القادری سے تعلق رکھنے والے حلقوں میں زبر دست ہلچل مچ گئی۔چنانچہ یہ جواب پڑھکر گنوری ضلع بدایوں یو پی ( بھارت) سے جناب ماہر القادری صاحب کے ایک گہرے دوست ابرا حسنی گنوری نے ۱۳ اکتوبر کو مدیر الفرقان“ کے نام حسب ذیل مکتوب لکھا۔مکرم و محترم السلام و علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته ماہنامہ الفرقان پرسوں زینت مطالعہ بنا اور آج بغور مطالعہ کے بعد آپکو خط لکھنے کی مسرت حاصل کر رہا ہوں۔رسالہ میں جس قابلیت اور سلیقہ سے احمدی جماعت کے مقاصد کا ثبوت فراہم کیا گیا ہے۔وہ دعوت غور وفکر دیتا ہے۔مجھے معاف کیجئے میں اگر چہ آپ کا یا ماہر القادری وغیرہ کا ہم عقیدہ نہیں ہوں۔مگر مجھے یہ کہنے میں باک نہیں کہ ماہر القادری ان مسکت جوابات کے سامنے بڑے ہلکے نظر آتے ہیں۔ماہر کو نہ صرف میں بچپن سے جانتا ہوں بلکہ اب سے دو سال پہلے تک میں ان کے اور وہ میرے بہت قریب رہے ہیں۔میں نے ماہر کو ایک مخلص ، سیدھا، خوش اخلاق ، وضعدار اور ذہین وطباع پایا ہے۔مگر وہ بے حد جذباتی بھی واقع ہوئے ہیں اور تلون مزاج بھی۔جس زمانے میں وہ ہر قلعی کی ہوئی قبر کو چار سجدے کر لینا اپنا دین وایمان جانتے تھے۔اس وقت بھی اپنے مشرب میں سخت متعصب تھے۔انہیں کون یہ سامنے کی بات بتائے کہ جب اسلام میں اتنے فرقے موجود ہیں اور ہر فرقہ انکی جماعت کو اور وہ ہر جماعت کو کا فرسمجھتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ سب فرقے ایک پلیٹ فارم پر آسکیں گے یا سب فرقوں کو سولی پر چڑھا کر مودودی جماعت برسر اقتدار آ کر اپنے عقیدے کے مطابق حکومت بنا سکے گی۔یا تمام پاکستانی مسلمان مودودی ہو جائیں ے۔۔۔آجکل علماء کا کاروبار صرف کفر کے فتووں پر چل رہا ہے۔پہلے علماء کا فروں کو مسلمان بناتے تھے آج ہر عالم کے گھر میں کفر سازی کی ایک فیکٹری نصب ہے اور وہ دھڑا دھڑ کا فر بنا رہا ہے مسلمان بنانا آج انکے بس میں نہیں۔ماہر اس نیک کام میں سبقت لے گئے ہیں اور وہ بے تکلف اپنے سوا سب کو کفر کا ایک عدد فتوی ہدیہ فرما دیتے ہیں۔اسکی انہیں پروا نہیں کہ ان پر کتنے کفر کے فتوے نازل ہو چکے ہیں۔