تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 555
تاریخ احمدیت۔جلد 23 555 سال 1966ء کاش وہ معاملہ کی حقیقت کو سمجھنے کے اہل ہوتے اور تنگدلی و تنگ نظری کا شکار نہ ہوتے تو بڑی خوبیوں کے انسان تھے۔سماء کے معنی عربی میں بلندی کے ہیں نہ کہ ویسا آسمان جو عام لوگوں کے تصور میں ہے۔سبع سموات پیہ سات بلندیاں ہیں جو سبع سیارے ہیں۔آج کے روشن دور نے ثابت کر دیا ہے کہ آسمان کوئی چیز نہیں۔جب آسمان ہی کوئی چیز نہیں تو حضرت عیسی کا چوتھے یا پانچویں آسمان پر ہونا چہ معنی دارد؟ پھر ان کا آسمان سے نازل ہونا اور اتنی لمبی مدت تک زندہ رہنا سنت اللہ کے خلاف ہے۔رجعت کے معنی یہ ہیں کہ اسکی صفات و کمال کا کوئی شخص ماں کے پیٹ سے پیدا ہوکر ظاہر ہونہ کہ خلاف فطرت وخلاف سنت اللہ وہی شخص آسمانوں سے اترے۔اسی خیال نے یہودیوں کو گمراہ کیا اور انہوں نے عیسی کو نہ مانا۔اسی واہمہ میں مسلمان مبتلا ہیں۔یہ لوگ رہتی دنیا تک رستہ دیکھا کریں نہ جابلقاو جابلصا معدوم مقام سے مہدی آئیں گے نہ آسمان سے عیسی اتریں گے۔اس حقیقت سے انکار کرنا عصبیت ہے کہ احمدی جماعت نے جس خلوص اور لگن سے کام کیا اس کی مثال اسلام کے کسی فرقے میں نہیں ملتی اور جتنی جلد اس فرقہ نے ترقی کی اس کی مثال نابود ہے۔ابراحسنی گنوری حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کا پیغام بر موقع جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ کیرنگ ۲۳ ۲۴ جولائی ۱۹۶۶ء کو جماعت احمدیہ کیرنگ ( اڑیسہ۔بھارت ) کا جلسہ سالانہ منعقد ہوا جس میں صاحبزادہ مرز او سیم احمد صاحب اور علماء سلسلہ نے شرکت کی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے اس موقع پر جو روح پرور پیغام ارسال فرمایا۔اس کا متن درج ذیل کیا جاتا ہے:۔”بسم الله الرحمن الرحيم 105 نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر عزیز المکرم ایس ایم موسییٰ مبلغ سلسلہ عالیہ احمد یہ کیرنگ اڑیسہ بھارت السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا خط محرره ۲۶/۳/۶۶ ملا۔حالات سے آگاہی ہوئی۔اللہ تعالیٰ آپ