تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 552
تاریخ احمدیت۔جلد 23 552 سال 1966ء کر شائع کرنے کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس ہونے لگی۔صدرانجمن احمد یہ پاکستان نے یہ ذمہ داری چوہدری ظہور احمد صاحب آڈیٹر کے سپرد کی۔صدرانجمن احمد یہ قادیان کے قواعد وضوابط ۱۹۳۸ء میں طبع ہوئے تھے۔اس کے بعد کی ۲۷ سالہ ترمیمات کو یکجا کرنا اور مجلس مشاورت کے متعلقہ فیصلہ جات کو تلاش کر کے قواعد میں شامل کرنا ایک کٹھن مرحلہ تھا۔جسے خُدا کے فضل سے چوہدری صاحب موصوف نے کمال خوش اسلوبی سے سرانجام دیا۔سیدنا حضرت خلیفتہ امیج الثالث نے ان کے تیار کردہ مسودہ قواعد وضوابط کی چھان بین کے لیے حسب ذیل ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر فرمائی۔۲۔۔۔_^ و۔مکرم چوہدری فضل احمد صاحب ناظر تعلیم ربوه (صدر) مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب آڈیٹر صدرانجمن احمدیہ (سیکرٹری) مکرم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ناظر امور عامه ( ممبر ) مکرم چوہدری اعظم علی صاحب ریٹائر ڈ سیشن جج لاہور (ممبر ) مکرم عبدالستار صاحب ریٹائر ڈ سیکشن آفیسر لاہور ( ممبر ) مکرم قریشی محمود احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور ( ممبر ) چوہدری انور حسین صاحب ایڈووکیٹ شیخو پورہ (ممبر ) رانا محمد خاں صاحب ایڈووکیٹ بہاول نگر (ممبر ) میاں عبدالسمیع صاحب ٹون ایڈووکیٹ سرگودھا ( ممبر ) اس کمیٹی نے ربوہ میں اپنے متعدد اجلاس کر کے اس مسودہ کو ترتیب دے کر سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے حضور پیش کر دیا۔حضور نے گوناگوں مصروفیات کے باوجود اسے ملاحظہ فرمایا اور بیشتر مقامات پر اپنے دست مبارک سے ترمیمات بھی فرمائیں اور پھر اسے صدرانجمن احمدیہ میں بغرض رپورٹ بھجوا دیا۔صدرانجمن نے بھی کئی اجلاس کر کے اس مرتبہ مسودہ میں کافی غور وفکر کے بعد کئی تجاویز اور مشورے حضور کی خدمت میں پیش کئے۔اس مرتبہ بھی حضور کو نظر ثانی کرنے میں کافی وقت صرف کرنا پڑا اور کئی فیصلہ جات فرمائے۔اب اس مسودہ نے اپنی آخری شکل اختیار کر لی اور حضور نے اسے منظور فرماتے ہوئے طبع کروانے کی اجازت عطا فرما دی۔(مولوی عبد الرحمن صاحب انور کی ایک قلمی یاد داشت سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے یہ مسودہ انہیں بھی بھجوایا انہوں نے حضور کی ہدایت