تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 549
سال 1966ء 549 تاریخ احمدیت۔جلد 23 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تبرک مانگ رہے ہو۔اس میں برکتیں بھی بڑی ہیں مگر یہ بھی نہ بھولو کہ اسکی قیمت اتنی ہے کہ ساری دنیا کے سونے اور ساری دنیا کی چاندی اور ساری دنیا کے ہیرے اور جواہرات بھی اگر اسکے مقابل رکھے جائیں تو ان کی وہ قیمت نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کپڑوں میں سے ایک ٹکڑا کی قیمت ہے اس لیے تم ایک بڑی ذمہ داری لے رہے ہو۔ذہنی طور پر ، روحانی طور پر اور اخلاقی طور پر اپنے آپ کو اس کا اہل بناؤ۔یہ مضمون تھا اس خط کا جو میں نے انہیں لکھوایا اور ان سے انتظار کروایا۔تا کہ جب انکی یہ روحانی پیاس اور بھڑ کے اور ان کے دل میں ذمہ داری کا پورا احساس بیدار ہو جائے اس وقت وہ تبرک ان کو بھیجا جائے۔پندرہ بیس دن ہوئے وہ تبرک ان کو بھجوایا گیا اور مجھے ابھی گھوڑا گلی میں ان کی تاریلی ہے کہ وہ تبرک مجھے مل گیا ہے۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے کما حقہ فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشے۔99 پس خدائے عزیز کے ساتھ تعلق رکھنے والے عزت کے ایسے مقام کو حاصل کرتے ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔مولوی عبد الرحمن صاحب انور پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفہ اسیح کا بیان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مستعمل کپڑے کا ایک ٹکڑا جو باریک سفید ململ کا معلوم ہوتا تھا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے مجھے عطا فرمایا۔اس پر حضور نے اپنے دستخط فرمائے اور خاکسار کو ارشاد فرمایا کہ اس کے نیچے خلیفہ کی مہر لگائی جائے۔اس پر خاکسار نے اپنے قلم سے تاریخ اور مہینہ درج کیا اور سن کا ہندسہ مکرم مولوی محمد شریف صاحب سابق مبلغ گیمبیا نے درج کیا اور تعارفی خط میرے دستخطوں سے لکھا گیا۔( اور یہ کپڑا رجسٹر ڈ انشورڈ کر کے ان کو بھجوایا گیا ) اس کے جواب میں مسٹر سنگھاٹے صاحب نے جو خط میرے نام لکھا اسکی نقل درج ذیل ہے۔Government House, BAT theriod Gambia۔Dear Abdul Rahman Anwar, Assalamo Alikum wa Rahmatullahe wa Barakatohu۔