تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 545
تاریخ احمدیت۔جلد 23 545 سال 1966ء رات کو رستم شہید کے والد کی تدفین سے پہلے جب یہ اعلان ہوا تو انہوں نے اپنی بیگم کو بلا کر کہا کہ تم کسی طرح سے اپنے بھائیوں عبدالسلام اور عبدالقدوس کو اطلاع کرو کہ وہ تعزیت کے بہانے گاؤں آئیں اور بچوں کو ساتھ لے جائیں کیونکہ حالات ٹھیک نہیں ہیں اور مجھے بیٹیوں کا خطرہ ہے۔دوسری طرف بیٹا عبد الحمید جو اُن دنوں کیڈٹ کالج حسن ابدال میں پڑھتا تھا اور اٹھارہ سال کا تھا، دادا کی وفات پر گاؤں آ رہا تھا۔جونہی وہ گاؤں پہنچا۔اس نے دیکھا کہ ایک شخص منہ پر ڈھانا باندھے گاؤں کے باہر جہاں ویگن رکتی ہے ایک جگہ چھپ کر بیٹھا ہوا تھا۔عبدالحمید نے اس کو دیکھ لیا اور پیچھے سے جاکر پکڑ لیا۔دیکھا تو وہ اس کا چچا تھا۔اس نے کہا چا آپ۔چا گھبرا کر بولا کہ ہاں میں تمہاری حفاظت کے لئے بیٹھا ہوں کیونکہ لوگ تمہیں قتل کرنا چاہتے ہیں۔اس نے جب یہ واقعہ اپنی امی کوسنایا تو وہ اور بھی پریشان ہو گئیں اور انہیں اور دوسرے بچوں کو ماموں کے آنے پر وہاں سے نکلوا دیا۔دوسرے روز ا ا فروری ۱۹۶۶ء کو رستم خان شہید صبح کی نماز کے لئے وضو کر نے کھیتوں کی طرف جا رہے تھے کہ فائر کی آواز آئی۔ان کی بیگم یہ آواز سن کر باہر کی طرف بھا گیں۔پیچھے سے رستم شہید کے بھائیوں نے پکڑ لیا لیکن وہ چونکہ پہلے سے چوکنا تھیں اس لئے ان کو دھکا دے کر باہر نکل گئیں۔باہر جا کر دیکھا تو دشمن اپنا کام کر چکے تھے اور ان کے خاوند راہ مولیٰ میں شہید ہو چکے تھے۔اب وہ بچوں کو ڈھونڈ نے لگے لیکن بچے تو وہاں سے پہلے ہی نکل چکے تھے۔ان کی بیگم کو اللہ تعالیٰ نے صبر کی قوت دی۔گاؤں کے مولوی نے آکر کہا کہ کس پر رپورٹ درج کرو گی۔انہوں نے کہا یہ معاملہ خدا کے سپرد ہے۔تم سب لوگ راستے سے ہٹ جاؤ۔میں اپنے خاوند کی لاش کو پشاور لے کر جاؤں گی اور وہاں ہماری جماعت کے لوگ دفن کریں گے۔ایک بیوہ عورت کی دلجوئی کی بجائے تمام گاؤں والے ان پر دباؤ ڈالنے لگے کہ اس کو یہیں دفنا دو اور بچوں کو ہمارے سپردکر دو تا کہ ہم انہیں پھر مسلمان بنالیں۔اس وقت ان کی بیگم نے نعش کے سامنے ایک تقریر کی کہ آج تو میں اپنے خاوند کی لاش کو یہاں سے لے جا کر رہوں گی۔یادرکھنا کہ جس سچائی کو رستم خان نے پایا تھا میں اور میری اولا داس سے مڑنے والے نہیں۔انشاء اللہ رستم خان کی نسل پھیلے گی۔تمام لوگوں نے کہا کہ یہ عورت پاگل ہوگئی ہے۔بجائے بین کرنے کے بڑی بڑی باتیں کرتی ہے۔اگلے دن ان کی بیگم شہید کی لاش لے کر پشاور آئیں اور وہاں تدفین ہوئی۔دشمنوں کا انجام : ایک سال کے اندر اندر ان کے ایک بھائی جس نے ان کے بیٹے حمید کو بھی