تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 513
تاریخ احمدیت۔جلد 23 513 سال 1966ء ڈاکٹروں سے اس بُوٹی کے دئے جانے کے متعلق دریافت کیا گیا۔تو انہوں نے اجازت دے دی اور کہا ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔اب نہ تو اس سچی بوٹی میں کوئی ذاتی خصوصیت تھی اور نہ ٹیکوں میں کوئی ذاتی خوبی تھی۔صرف اللہ تعالیٰ نے ایک معجزہ دکھانا تھا۔مریض چھ سات دن سے بیہوش چلا آرہا تھا۔ڈاکٹر وین (VEIN) کے ذریعہ خوراک دے رہے تھے۔تا انہیں کچھ طاقت پہنچے۔لیکن چھ سات دن بے ہوش رہنے کے بعد انہوں نے آنکھیں کھول دیں۔اُن کی نظر عود کر آئی اور ان کے کان بھی کام کرنے لگ گئے اور جو ہوش و حواس ایک سمجھدار آدمی کے ہونے چاہئیں وہ عود کر آئے صرف اُن کا جسم کمزور ہے۔جب میں مکرم شیخ بشیر احمد صاحب کے بچے کی شادی پر لاہور گیا تو انہوں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا میرے امام یہاں لا ہور آئے ہوئے ہیں اور میں انہی کی دعاؤں سے تندرست ہوا ہوں۔میں انہیں ملنا چاہتا ہوں اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو میں انہیں مل آؤں ڈاکٹر صاحب نے کہا بے شک جاؤ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔چنانچہ وہ موٹر پر بیٹھ کر پام ویو palm view آئے اور مجھ سے ملے۔اب کجا یہ خیال تھا کہ شاید ہی وہ دو دن تک زندہ رہیں اور کجا یہ کہ اللہ تعالی نے ماہر ڈاکٹروں کے سارے اندازے غلط ثابت کر دئے اور ان کو معجزانہ طور پر شفا دے دی۔“ (مولوی صاحب نے اس کے بعد لمبا عرصہ زندہ رہ کر مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۸۲ء کو وفات پائی۔) مشرقی افریقہ کے احمدیوں کی دینی خدمات کا اعتراف مشرقی افریقہ میں جس طرح احمدیت خدمت اسلام کا نہایت بابرکت فریضہ سرانجام دے رہی تھی اس کے بارے میں غیر بھی رطب اللسان تھے۔چنانچہ جماعت اسلامی کے رہنما چوہدری غلام محمد صاحب نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے تحریر کیا:۔قادیانی بہت منظم ہیں۔کمپالا ، نیروبی، دار السلام، لیڈرا اور کئی چھوٹے چھوٹے مقامات پر ان کے مراکز ہیں۔گذشتہ ۴۰ ۵۰ سال سے یہ لوگ کام کر رہے ہیں۔ہر جگہ ایک ایک مسجد اور اس کے ساتھ مرکز ہے اور تقریباً سولہ سترہ ہمہ وقتی مبلغ اس علاقہ میں موجود ہیں۔۔۔قادیانیوں نے ایک کام یہ کیا ہے کہ مقامی زبانوں یا بالخصوص سواحیلی میں قرآن کریم کے ترجمہ کی اشاعت کی ہے اور اس طرح