تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 514
تاریخ احمدیت۔جلد 23 514 سال 1966ء بعض دالوں میں اپنے لئے نرم گوشہ بھی پیدا کر لیا ہے۔72 66 حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا پیغام درباره سال وقف جدید حضرت خلیفتہ امیج الثالث نے ۴ را پریل ۱۹۶۶ء کو خلصین جماعت کے نام حسب ذیل پیغام دیا۔جس میں تحریک فرمائی کہ وقف جدید کے نئے سال میں ایک نئے جوش اور مخلصانہ عزم کے ساتھ لمصل حصہ لیں۔سید نا حضرت اصلح الموعود نے خدائی تحریک کے ماتحت ۲۷ دسمبر ۱۹۵۷ء کو وقف جدید کے آغاز کا اعلان فرمایا اور پھر ۳ جنوری کو خطبہ جمعہ میں وقف جدید کی ضرورت اور جماعت کی تربیت کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: اگر وہ ( یعنی جماعت) ترقی کرنا چاہتی ہے تو اس کو اس قسم کے وقف جاری کرنے پڑیں گے اور چاروں طرف رشد و اصلاح کا جال پھیلانا پڑے گا۔یہاں تک کہ لمصلہ 73 پنجاب کا کوئی گوشہ اور کوئی مقام ایسا نہ رہے جہاں رشد و اصلاح کی کوئی شاخ نہ ہو۔وقف جدیدا بھی ۸ سالہ بچہ ہی ہے مگر اس قلیل عرصہ میں بھی بہت بابرکت تحریک ثابت ہوئی ہے وقف جدید کے ماتحت جہاں جہاں بھی کام شروع کیا گیا ہے۔بہت مفید نتائج نکلے ہیں لیکن بہت سی جماعتیں ایسی ہیں جہاں کام کرنا ابھی باقی ہے جس کے لئے مخلصانہ دعاؤں سے بھر پور جدو جہد کی ضرورت ہے۔ہیں اس اعلان کے ذریعہ مخلصین جماعت سے درخواست ہے کہ وہ سیدنا حضرت اصلح الموعود کی جاری کردہ اس مبارک تحریک پر اس نئے سال میں جو یکم جنوری سے شروع ہو چکا ہے ایک نئے جوش اور مخلصانہ عزم کے ساتھ لبیک کہیں۔وقف جدید کے کام کو مغربی اور مشرقی پاکستان دونوں حصوں میں وسعت دینے کی ضرورت ہے جس کے لئے پہلے سے زیادہ آمد چاہئیے اور زیادہ تعداد میں مخلص واقفین چاہئیں۔وقف جدید کے چندہ کے متعلق دوست یا درکھیں کہ چھ روپے سالا نہ اس چندہ کی انتہائی حد نہیں ہے۔اس لئے دوست حسب توفیق وقف جدید کی امداد کریں۔جس دوست کو ۱۲ روپے سالانہ دینے کی توفیق ہو وہ ۱۲ روپے سالا نہ دے