تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 461
تاریخ احمدیت۔جلد 23 461 سال 1966ء حضور نے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیئر مین ، کرنل محمد عطاء اللہ صاحب کو وائس چیئر مین اور مولانا شیخ مبارک احمد صاحب سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ کو سیکرٹری مقرر فرمایا۔۱۹۷۱ء کی آخری سہ ماہی میں آپ نے سیکرٹری حدیقۃ المبشرین کا چارج سنبھالا تو بریگیڈئیر (ریٹائرڈ) اقبال احمد صاحب شمیم اس عہدہ پر فائز ہوئے جو مئی ۱۹۹۰ء تک یہ خدمت اعزازی طور پر سرانجام دیتے رہے ان کے بعد مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ۱۹۹۰۔۵۔۱۷ تا ۱۹۹۲۔۷۔۱۷ اور ان کے بعد ۱۹۹۲۔۷۔۱۸ سے تا حال مکرم ناصر احمد شمس صاحب خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔) بورڈ آف ڈائریکٹرز نے مندرجہ ذیل چار مبروں پر مشتمل ایک انوسٹمنٹ کمیٹی بنائی۔کرنل محمد عطاء اللہ صاحب، چوہدری انور احمد صاحب کا ہلوں (ڈھاکہ ) ، شیخ محمد حنیف صاحب (کوئٹہ)، چوہدری بشیر احمد صاحب (لاہور)۔اس کمیٹی کا مقصد یہ تھا کہ سرمایہ کاری کے سلسلے میں دوسرے احباب سے رابطہ قائم کر کے ادارہ کے سرمایہ سے آمد پیدا کرنے سے متعلق تمام ضروری تجاویز حاصل کرے اور اُن کا تفصیلی جائزہ لے کر آخری فیصلہ کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں اپنی رپورٹ پیش کرے۔ابتدا میں عطیہ دینے والے مخلص احباب کو کچی رسید میں جاری کی گئیں۔لیکن فاؤنڈیشن کے با قاعدہ رجسٹرڈ ہونے کے بعد رسیدیں چھپوانے کا انتظام کر کے باقاعدہ رسید میں جاری ہونے لگیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا پیغام بابت فضل عمر فاؤنڈیشن سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۱۸ مئی ۱۹۲۹ء کو فضل عمر فاؤنڈیشن کی تحریک کے سلسلے میں حسب ذیل پیغام دیا: ( یہ پیغام حضور نے جماعت لاہور کے بعض مخلصین کے گرانقدر وعدوں کی رپورٹ سن کر بھجوایا۔اور اگر چہ یہ پیغام جماعت لاہور کے دوستوں کے نام تھا۔لیکن اپنے مقصد کے اعتبار سے پوری جماعت سے تعلق رکھتا تھا۔) احباب کرام السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ فضل عمر فاؤنڈیشن کی تحریک محبت و عقیدت کے اس چشمہ سے پھوٹی ہے۔جو احباب کے دل میں اپنے پیارے آقا اصلح الموعود کے لئے ہمیشہ موجزن رہی اور