تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 460
تاریخ احمدیت۔جلد 23 460 سال 1966ء کے کناروں تک وسیع ہو جانا آپ کے من جانب اللہ ہونے کو روزِ روشن کی طرح عیاں کر رہا ہے۔یہ استقبالیہ تقریب چوہدری عبدالعزیز صاحب ڈوگر مہتم مقامی مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے زیر انتظام دفاتر تحریک جدید کے احاطہ میں انعقاد پذیر ہوئی۔اور اس میں جماعت احمدیہ کے ناظر ووکلاء صاحبان، بیرونی ممالک میں فریضہ تبلیغ ادا کر کے واپس تشریف لانے والے مجاہدین احمدیت ، بعض امراء صاحبان اضلاع اور ربوہ میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلباء کے علاوہ اضلاع جھنگ ،سرگودھا اور فیصل آباد کے اعلیٰ حکام، ان کی بار ایسوسی ایشنوں کے ارکان قومی وصوبائی اسمبلیوں کے ممبران، بنیادی جمہورتیوں کے ارکان اور ربوہ کے قرب وجوار کے معزز روسا اور زمیندار بھی بہت کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔ادارہ فضل عمر فاؤنڈیشن کا قیام فضل عمر فاؤنڈیشن خلافت ثالثہ کے عہد مبارک کی پہلی مالی تحریک ہے۔جس کا اعلان جلسہ سالانہ ۱۹۶۵ء پر ہوا۔اور ایک باقاعدہ ادارے کی صورت میں اس کا قیام ۲۵ فروری ۱۹۶۶ء کو عمل میں آیا۔جبکہ اس کے اغراض و مقاصد اور کانسٹی ٹیوشن کو قانونی صورت میں تیار کر کے اسے ایکٹ ۱۸۶۰ء نمبر ۲۱ کے تحت رجسٹرڈ کروایا گیا۔حضرت خلیفتہ امیج الثالث نے فضل عمر فاؤنڈیشن کے نظام کی تشکیل فرمائی۔اور ابتدا میں مندرجہ ذیل نو ڈائریکٹرز مقرر فرمائے۔۔_^ و۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب حج بین الاقوامی عدالت ہیگ۔(صدر) محترم میر محمد بخش صاحب ایڈووکیٹ سپریم کورٹ۔دی مال۔لاہور حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ گلی وکیلاں۔لائلپور (فیصل آباد) محترم شیخ محمد حنیف صاحب ( شیخ کریم بخش اینڈ سنز ) کوئٹہ محترم چوہدری انور احمد صاحب کا ھلوں۔۱۶ موتی جھیل روڈ ڈھا کہ ۲ محترم چوہدری احمد جان صاحب ۵۴-R سید پوری گیٹ راولپنڈی محترم کرنل محمد عطاء اللہ ریتگن روڈ لاہور۔( نائب صدر ) محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب۔بیت العافیت۔ربوہ محترم سید داؤ د احمد صاحب پرنسپل جامعہ احمد یہ ربوہ