تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 450
تاریخ احمدیت۔جلد 23 450 سال 1966ء سیکھنا ہے اور پھر اس کا ترجمہ جاننا ہے۔یہ بات ہماری جماعت کے لئے بنیاد کے طور پر ہے۔قرآن کریم ہماری روح کی غذا ہے اس کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے۔قرآن کریم ہمارا محبوب ہے ہمیں اس کتاب سے شدید محبت ہے کیونکہ یہ نہایت ہی خوبصورت حسین اور عمدہ تعلیم کی حامل ہے۔“ نیز فرمایا: تربیت کے میدان میں آپ کے سپر داہم اور ضروری کام یہ ہے کہ آپ اپنے حلقہ کا جائزہ لیں اور جس حلقہ میں بھی جائیں وہاں معلوم کریں کہ جماعت کے کون کون سے اور پھر کتنے بچے قرآن کریم ناظرہ نہیں جانتے۔پھر کوشش کریں کہ ان سب کو قرآن کریم ناظرہ پڑھانے کا انتظام ہو جائے۔آپ میں سے بہتوں کے لئے تو یہ ممکن نہیں ہوگا کہ ان سب کو خود قرآن کریم ناظرہ پڑھائیں لیکن آپ میں سے ہر ایک کے لئے یہ یقینا ممکن ہے کہ جماعت کی ان عورتوں اور مردوں کی جو قرآن کریم ناظرہ جانتے ہیں یہ ڈیوٹی لگائیں کہ وہ کچھ بچوں کو قرآن کریم ناظرہ پڑھا دیں۔“ آخر میں دعا کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: پھر ہر کام میں برکت دعا کے نتیجہ میں پڑتی ہے۔ہم احمدیوں کو تو اللہ تعالیٰ نے دعا پر زور دے دے کر اس کی اتنی عادت ڈال دی ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ کسی حقیقی احمدی کو اس وقت تک صبر نہیں آتا جب تک کہ اس کے ہر لقمہ اور ہر گھونٹ پانی کے ساتھ جو وہ بیٹے اس کے اندر دعائیہ کلمات نہ جائیں۔دعا اس کے خون کا ایک حصہ بن چکی ہے۔دعا اس کے معدہ میں اس کی غذا کا ایک حصہ بن چکی ہے۔دعا اس کی ہڈیوں میں رچ چکی ہے۔اور اس کے گوشت پوست کا ایک حصہ بن چکی ہے۔فرض ہمارا جو کام بھی ہے اس میں دعا کا بڑا حصہ ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا درس قرآن اور اجتماعی دعا مسجد مبارک ربوہ میں یکم رمضان المبارک سے قرآن کریم کے درس کا ایک سلسلہ جاری ہوا تھا جو ۲۹ رمضان المبارک بمطابق ۲۲ جنوری ۱۹۶۶ء کی نماز مغرب سے قبل مکمل ہو گیا۔