تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 449 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 449

تاریخ احمدیت۔جلد 23 449 سال 1966ء ایک انسان پر اس کی زندگی میں خدا تعالیٰ نے جو فرائض عائد کیے ہیں ان میں سے ایک اہم فرض ان حقوق کی ادائیگی بھی ہے۔جو ایک انسان پر اس کے انسان ہونے کی حیثیت سے یا کسی ملک کے رہنے والوں اور اس کے باشندوں سے تعلق رکھنے کی وجہ سے عائد ہوتے ہیں۔ہماری قوم ایک لمبے عرصہ تک غیروں کی غلامی میں رہی ہے۔اس لئے دوسرے آزاد ممالک کی نسبت اسے اس بات کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ ہم اسے شہریت کے حقوق اور فرائض کی طرف متوجہ کرتے رہیں۔“ وطن کے لحاظ سے جو ذمہ داریاں ہر احمدی پر عائد ہوتی ہیں ان کے متعلق فرمایا : ”ایسے ممالک اور قو میں جو بیدار ہیں وہ ہنگامی صورت حالات پیش آنے پر اس کے مقابلہ کے لیے تیار ہو جاتی ہیں۔لیکن ہمارے ملک میں اس قسم کی ذہنیت نہیں پائی جاتی۔حالانکہ غیر مسلم ممالک کی نسبت ہمارے ملک میں یہ ذہنیت زیادہ پائی جانی چاہیے۔کیونکہ اسلام نے اس کی نہ صرف ہمیں تعلیم دی ہے بلکہ اس نے اس پر خاص زور دیا ہے اور اس کی ہمیں یہاں تک ہدایت کی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حب الوطن من الايمان یعنی وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔اور تمہارا مذہبی فرض ہے کہ تم ان حقوق کو نظر انداز نہ کرو جو وطن کی طرف سے تم پر عائد ہوتے ہیں۔اپنے شہری، سیاسی اور تمدنی حقوق کے حصول کے متعلق فرمایا: اسلام نے اپنے متبعین کے دماغوں میں اپنی کامل تعلیم کے نتیجہ میں اتنی روشنی پیدا کر دی ہے کہ ہم اپنے شہری تمدنی اور سیاسی حقوق کو ہنگاموں فتنوں اور دنگا فساد کے بغیر حاصل کر سکتے ہیں۔ہمیں ہمارے جائز حقوق بہر حال ملنے چاہئیں۔لیکن ان کے حصول کا جو طریق اختیار کیا جائے وہ امن والا ہو فساد پیدا کرنے والا نہ ہو۔ہمیں ان حقوق کے حصول کے سلسلہ میں ان طریقوں سے بہر حال اجتناب کرنا چاہئے۔تعلیم القرآن پر زور دیتے ہوئے فرمایا: تربیت کے لحاظ سے پہلی چیز جو نہایت اہم ہے قرآن کریم کا ناظرہ طور پر