تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 451 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 451

تاریخ احمدیت۔جلد 23 451 سال 1966ء مورخہ ۲۹ رمضان المبارک کو نماز عصر سے قبل محترم مولانا ابوالعطاء صاحب کے حصہ درس کے مکمل ہونے کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے چار بجے مسجد مبارک میں تشریف لا کر پہلے عصر کی نماز پڑھائی اور پھر قرآن کریم کی آخری تین سورتوں کا درس دیا۔بعد ازاں حضور انور نے پُر سوز اجتماعی دعا کرائی جس میں حاضر الوقت ہزاروں احباب شریک ہوئے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کا تعلیم الاسلام ہائی سکول کے طلبہ سے خطاب ۲۷ جنوری ۱۹۶۶ ء کو حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب حج بین الاقوامی عدالت (جوان دنوں پاکستان تشریف لائے ہوئے تھے ) نے تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ کی ایک مجلس سوال وجواب سے خطاب فرمایا اور طلباء اور مہران سٹاف کو بیش قیمت نصائح کرتے ہوئے اُن رہنما اصولوں پر روشنی ڈالی۔جنہیں سوال پوچھتے وقت ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہئے۔چنانچہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ان میں سے ایک بہت بڑی نعمت قوت فکر بھی ہے۔یعنی مختلف امور اور پیش آنے والے واقعات کے بارہ میں سوچنا اور غور کر کے نتائج اخذ کرنا۔سوال و جواب کے وقت بھی یہ قوت ہمہ وقت کارفرمارہ کر نتائج اخذ کرنے میں مدد دیتی ہے۔سوکسی امر کے متعلق سوال پوچھنے میں بھی قوت فکر سے کام لینا چاہیے۔سوال ایسا ہونا چاہیئے جو بامعنی اور با مقصد ہو۔اور اپنے اندر کوئی ابہام نہ رکھتا ہو۔سوال اس طور پر اور ایسے الفاظ میں پوچھنا چاہئے کہ جواب دینے والے پر استفسار پورے طور پر واضح ہو جائے۔اس امر کو ایک مثال سے واضح کرتے ہوئے محترم چوہدری صاحب نے فرمایا سوال پوچھنا بھی ایک رنگ میں مچھلی پکڑنا ہوتا ہے۔ظاہر ہے ہر شخص اس وقت تک مچھلی نہیں پکڑ سکتا جب تک وہ مچھلی پکڑنے کے طریق اور اس کی احتیاطوں سے واقف نہ ہو۔پس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سوال پوچھنے کے طریق اور اسکی احتیاطوں کو مد نظر رکھا جائے۔آپ نے فرمایا محض سوال کرنے کی غرض سے سوال نہیں کرنا چاہئے بلکہ جب بھی ذہن میں کوئی سوال آئے قوت فکر سے کام لیتے ہوئے پہلے خود اس سوال کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اور اگر اس غور و فکر کے نتیجہ میں خود جواب معلوم ہو جائے تو پھر خواہ مخواہ سوال نہیں پوچھنا چاہیئے۔آپ