تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 439
تاریخ احمدیت۔جلد 23 439 سال 1965ء اس سال وسطی ریجن کے او بازی گاؤں کے مخلص احمدیوں نے تین چار ہزار پونڈ کی لاگت سے خدا کا ایک خوبصورت اور پختہ گھر تعمیر کیا جس کا افتتاح مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم نے کیا۔غانا میں اکو ایم سٹیٹ کے مرکزی قصبہ اکرو پنگ میں ایک لوکل مبلغ احمد بیت کے ذریعہ نئے مشن کا قیام عمل میں آیا۔ملائیشیا الفضل میں مطبوعہ رپورٹوں کے مطابق غانا میں اسی سال ۲۳۶ سعید روحیں داخل احمدیت ہوئیں۔43 ۱۹ دسمبر ۱۹۶۵ء کو ملائیشیا ( شمالی بور نیو) میں احمد یہ سالانہ کا نفرنس منعقد ہوئی۔جس میں حسب ذیل جماعتیں شامل ہوئیں تپاتن، سکاوی، رامایا، نیمپنگ ، تمالنگ،تیلیپلوک، انانم ،ساسا گا سا پنگ، کوالا بلایت، برونائی اسٹیٹ ،سنڈا گن۔پروگرام کے مطابق کانفرنس کے تین اجلاس منعقد ہوئے۔پہلے دو اجلاسوں میں مولوی بشارت احمد صاحب امروهی ، بوجنگ بن روؤف صاحب، محمد شریف تیوسو چنگ صاحب آف برونائی اور ڈینٹیل موار یوسف صاحب آف سنڈا گن نے خطاب فرمایا۔تیسرا اجلاس شوری کی کارروائی پر مشتمل تھا۔جس میں شادی بیاہ، بچوں کی دینی تعلیم ، چندوں کی ادائیگی وغیرہ امور زیر بحث رہے۔ایک دینی درسگاہ کی تجویز بھی زیر غور آئی۔نیز مالی جہاد کی طرف توجہ دلائی گئی۔نائیجیریا وزیر اعلی شمالی نائیجیریا کا جماعت احمدیہ کی خدمت اسلام سے متعلق ایک خط الحاج سراحمد و بیلو، وزیر اعلی شمالی نائیجیریا (مغربی افریقہ) اپنے ایک خط میں تحریر فرماتے ہیں: ”میں اس عظیم الشان کام سے جو احمد یہ مشن اس غرض کو پورا کرنے کے لیے (اسلام کو کناف عالم میں پھیلانے اور مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی غرض۔ایڈیٹر ) نہ صرف نائیجیریا میں بلکہ ساری دنیا میں کر رہا ہے بخوبی واقف ہوں۔اور میں اس یقین سے پر ہوں کہ آخر کار فتح ہماری ہی ہوگی۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں ہمت اور حوصلہ عطا کرے اور اسلام کی ترقی کے لیے کام کرنے کی خاطر ہمیں استقلال سے نوازے۔آمین۔