تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 438
تاریخ احمدیت۔جلد 23 438 سال 1965ء جلسہ سے غانا کے وزیر دفاع مسٹر KOFI BAAKO نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ غانا کی ترقی وقوت میں جماعت احمدیہ کا زبردست ہاتھ ہے کیونکہ جماعت احمدیہ میں ایک بڑا طبقہ ایسے لوگوں کا ہے جو ہمیشہ ہی ملک کی خدمت کرتے ہیں اور نہایت دیانتداری اور محنت سے حکومت کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔آپ نے یقین دلایا حکومت ہمیشہ جماعت احمدیہ کے ساتھ فراخ دلی کا سلوک کرے گی اور ہر ممکن مد دو تعاون کرے گی اور مذہبی آزادی کو ہمیشہ بحال رکھے گی تا کہ لوگ آزادی سے اپنے مذہب پر چل سکیں آخر میں آپ نے پھر جماعت کی خدمات کا شکریہ ادا کیا۔اور یہ خواہش ظاہر کی کہ جماعت پہلے کی طرح برابر اپنی کوششوں کو جاری رکھے گی اور ملک کی ترقی اور خدمت میں حصہ لیتی رہے گی۔آپ نے بتایا کہ صدر غانا کو امے نکر و ماہر امن پسند جماعت کی عزت کرتے ہیں اور ان کو پوری مذہبی آزادی دینے کے حامی ہیں۔وزیر موصوف کی تقریر میں فضا بار بار نعروں سے گونجتی رہی۔اس کانفرنس کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ اس میں غیر ممالک کے دو احمدی بھی شریک ہوئے۔ا۔مسٹر عبداللہ صدر جماعت آئیوری کوسٹ۔۲۔جاپان کے احمدی نوجوان پی۔ایچ۔سیٹو۔آپ نے غانا کی تمام بڑی بڑی جماعتوں کا دورہ کیا۔اور ان کی تاریخ کا بڑے غور سے مطالعہ کیا۔اس سال غانا میں سات نئے احمد یہ مدارس کا قیام عمل میں آیا جن میں سے پانچ کا قیام شمالی ریجن میں ہوا جہاں اس سے قبل جماعت کا کوئی سکول نہیں تھا۔احمد یہ سیکنڈری سکول نے متعدد کالجز اور سیکنڈری سکولوں سے سخت مقابلہ کے بعد فٹ بال چیمپین شپ جیت کر صدر غانا ڈاکٹر کوامے نکروما 41 42- ٹرافی جیت لی۔اس کامیابی سے پریس اور ریڈیو پر جماعت احمدیہ کو ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔اشانٹی ریجن سے ملحقہ ریجن کے شہر کو فوریڈو میں مولوی نصیر احمد خاں صاحب نے جامع مسجد میں مناظرہ کیا جو چار گھنٹے تک جاری رہا۔اس موقع پر مولوی عبدالحق صاحب ایم اے اور بعض دیگر احمدی احباب بھی موجود تھے۔مولوی نصیر احمد خاں صاحب نے اپنے ریجن اشانٹی کی اٹھارہ جماعتوں کا دوبار دورہ کیا اور اس دورہ میں آپ نے جن شخصیات کو دینی لٹریچر پیش کیا ان میں ڈی سی سمپانگ، چیئر مین کونسل سمپانگ۔حکومت کی واحد سیاسی پارٹی کے لوکل چیئر مین آؤنکریاں اور ایک سکاچ مشنری خاص طور پر قابل توجہ ہے۔