تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 440
تاریخ احمدیت۔جلد 23 440 سال 1965ء ہالینڈ کے کیتھولک چرچ کے زیر انتظام اکتوبر ۱۹۶۵ء کے آخری ہفتہ میں ایک بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد ہوا۔یہ کانفرنس ہالینڈ کے ایک مشہور شہر آرنیم (ARNHEM) میں ہوئی اور اس میں اسلام عیسائیت ، بدھ ازم، ہندومت، صوفی مودومنٹ ، ویجیر مین (VEGETARIAN) اور ہیومنسٹ (HUMANIST) (انسانی فطرت اور زندگی کا مطالعہ کر نیوالا ) خیالات کے نمائندوں نے حصہ لیا۔ہر مکتبہ فکر کی طرف سے دو نمائندگان لئے گئے ان میں سے ایک کے ذمہ اپنے مذہب پر تقریر کرنا تھی اور دوسرے کو اس لیکچر پر پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دینا تھا۔کا نفرنس میں اسلام کی نمائندگی حافظ قدرت اللہ صاحب انچارج ہالینڈ مشن نے کی۔اور خدا کے فضل سے اسلام کی شوکت و عظمت کی دھاک بٹھا دی۔اس کا نفرنس کی تفصیل مولوی عبدالحکیم اکمل صاحب مبلغ ہالینڈ تحریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:۔تقریر کے لئے وقت ایک گھنٹہ رکھا گیا تھا۔چنانچہ اس وقت میں نہ صرف یہ کہ اسلام کے مثبت پہلوؤں پر اچھی طرح روشنی ڈالی گئی۔بلکہ ہر طرح کے ان غلط خیالات کی بھی تردید کی گئی جو غیر مسلم علماء کی طرف سے اسلام کے متعلق ظاہر کئے جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے ان اعتراضات کا جواب بھی دیا گیا جو آپ کی ذات بابرکات پر بعض عاقبت نا اندیش غیر مسلموں نے کئے ہیں اور پھر قرآن پاک اور بائیبل کا مقابلہ کرتے ہوئے اس فرق کو واضح کیا گیا۔جوان دونوں کتب میں پایا جاتا ہے یعنی قرآن کریم خدا تعالیٰ کا لفظی الہام ہے اور بائیبل نیک لوگوں کے خیالات اور بعض روایات کا مجموعہ ہے اور وہ بھی آئے دن تبدیل ہوتا رہتا ہے اس طرح قرآن پاک کا مقام امتیازی رنگ میں لوگوں کے سامنے آگیا اور یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر یقین کے ساتھ کسی کتاب پر مذہب کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے تو وہ صرف قرآن مجید ہی ہے۔نیز قرآن کریم نے جملہ صداقتوں پر ایمان لانے کے لئے جس رواداری کا ہاتھ صدیوں پہلے سے بڑھایا ہوا ہے کہ يَاهْلَ الْكِتُبِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ (آل عمران: ۶۵) اسے تحدی کے ساتھ پیش کیا گیا جسے حاضرین نے گہری دلچسپی سے سنا۔تقریر کے اختتام پر وقفہ سوالات تھا۔صدر صاحب حاضرین کو سوالات کے لئے کہہ رہے تھے اور لوگ تھے کہ مبہوت ہوئے بیٹھے تھے کسی کو کوئی سوال کرنے کی ہمت نہ ہوئی تھی۔ڈچ احمدی ( محمود نعیم