تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 414 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 414

تاریخ احمدیت۔جلد 23 414 سال 1965ء ۱۹۰۳ء میں بذریعہ خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔گو حضور کی زندگی میں شرف زیارت حاصل نہ کر سکے۔احمدیت کے لیے بہت غیرت اور جوش رکھتے تھے۔۱۹۱۴ء سے با قاعدہ جلسہ سالانہ میں شریک ہوتے رہے۔شیخ محمد محبوب صاحب دیودرگ ( بھارت) (وفات : ۲۸ /اکتوبر ۱۹۶۵ء) پُر جوش داعی الی اللہ تھے اور مہمان نوازی کی صفت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔چوہدری نور محمد صاحب منٹگمری (ساہیوال) (وفات : ۹ دسمبر ۱۹۶۵ء)۔84- مرحوم پاکپتن کے رہنے والے تھے۔آپ نے ۱۹۱۵ء میں احمدیت کی نعمت حاصل کی اور پاکپتن کی جماعت کے صف اول کے مخلصین میں رہے۔صوم وصلوٰۃ کے پابند اور اکثر نماز تہجد ادا کرتے تھے کوشش کرتے تھے کہ مسجد میں آکر باجماعت نماز ادا کریں۔اصلاح وارشاد کا کام بڑی گرم جوشی سے کرتے تھے۔چندہ با قاعدگی سے ادا کرتے اور اپنی تنخواہ میں سے سب سے پہلے چندہ ہی ادا فرمایا کرتے۔۔کچھ عرصہ سے آپ جماعت احمد یہ منٹگمری میں ضلعوار نظام کے کلرک تھے۔بڑی محنت اور دیانتداری سے اپنے فرائض ادا کرتے تھے۔۱۹۵۳ء کے فسادات میں مرحوم کی شدید مخالفت ہوئی۔ان دنوں آپ ماڑی، ہزارہ، قبولہ میں پٹواری کے طور پر کام کر رہے تھے۔مختلف قسم کی ایذا ئیں پہنچا کر احمدیت سے انکار پر مجبور کیا گیا۔مرحوم کے پائے ثبات میں ذرہ بھر لغزش نہ آئی۔تکالیف کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور نہایت صبر و استقلال کے ساتھ تمام حالات کا مقابلہ کیا۔حضرت میاں محمد یا مین صاحب تاجر کتب قادیان (وفات: ۱۰ دسمبر ۱۹۶۵ء) ۱۸۸۷ء میں پیدا ہوئے۔اپریل ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بیعت کا خط لکھا۔۱۹۰۹ء کے قریب اپنے بڑے بھائی محمد یاسین صاحب کے ساتھ مستقل طور پر ہجرت کر کے قادیان آگئے۔حضرت خلیفہ المسیح الاوّل نے فرمایا: