تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 415
تاریخ احمدیت۔جلد 23 415 سال 1965ء خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا ہے کہ آپ دونوں اس جگہ دکان کھولیں۔اور ساتھ ہی ایک دن مولوی محمد علی صاحب کے ذریعہ مبلغ ۱۰ روپے بغرض تجارت عطا فرمائے۔مولوی صاحب موصوف نے فرمایا یہ ۱۰ روپے نہیں ہیں بلکہ (۱۰۰۰) ہزار روپیہ بلکہ اس بھی زیادہ۔چنانچہ آپ نے قادیان میں کتابوں کی دکان شروع کر دی اور سلسلہ کا لٹریچر وسیع پیمانے پر شائع کرنے کا بیڑا اٹھالیا۔متعددٹریکٹ اور رسائل جن میں قادیان گائیڈ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے خود مرتب کیے اور ہزاروں کی تعداد میں ملک بھر میں پھیلا دیئے۔اس طرح متعدد بزرگوں اور اہلِ قلم سے بھی کتب اور رسائل لکھوائے۔آپ نے بچوں بڑوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ کتب ہزاروں کی تعداد میں شائع کیں جو بہت مقبول ہوئیں۔بعض کتب کے پندرہ بلکہ ہیں ایڈیشن چھاپے گئے۔آپ تبلیغی جذبہ سے سرشار تھے۔آپ کی زندگی کا مایہ ناز شاہکار احمدی جنتری“ ہے۔جو آپ نے ۱۹۱۸ء میں جاری فرمائی اور باوجود نامساعد حالات کے ۱۹۶۶ء تک اپنی نگرانی میں شائع کرتے رہے۔اس جنتری میں تاریخوں اور مہینوں کے اندراج کے علاوہ اسلام کی فضیلت اور احمدیت کے مخصوص مسائل پر دلچسپ اور سیر حاصل مضمون اور اعتراضات کے جوابات بھی ہوتے تھے۔علاوہ ازیں اہم دینی مباحث پر دلچسپ نوٹ اور لطائف و ظرائف بھی درج کیے جاتے تھے۔الغرض یہ جنتری معلومات کا ایک مرقع تھی۔قادیان میں آپ کی دکان مین بازار میں تھی اور سلسلہ کے بعض بزرگ مثلاً حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب بالالتزام آپ کی دکان پر تشریف رکھتے تھے۔ربوہ میں آپ کی با قاعدہ دکان نہ تھی۔مگر اشاعت کا شوق بدستور کارفرما تھا۔درنتین، کلام محمود، ادعیۃ الفرقان، ادعیۃ الرسل اور ادعیہ مسیح الموعود کی اشاعت خاص اہتمام سے فرماتے تھے۔ان کی سادگی اور دینداری کی وجہ سے خالد احمدیت ، حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کو ان کے ساتھ خاص محبت تھی اور وہ آپ کو حدیث نبوی’ التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأمين “ کا مصداق سمجھتے تھے۔معاملہ کے نہایت صاف تھے۔رزق حلال کے لیے کوشاں رہتے۔بہت متوکل تھے۔اللہ تعالیٰ کا بھی اُن سے خاص سلوک تھا۔دعا اُن کی روح کی غذا تھی۔وفات سے ایک ہفتہ قبل انہیں جناب الہی کی طرف سے بتا دیا گیا کہ بعد نماز جمعہ میرا جنازہ ہوگا۔انتقال سے تین روز قبل آپ نے اپنا علاج بند کروا دیا اور فرمایا اب میں اس دنیا میں رہنا نہیں چاہتا۔مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے بلاوا آ گیا ہے۔