تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 412
تاریخ احمدیت۔جلد 23 412 سال 1965ء آپ کا خاندان برہان پور سے حیدر آباد دکن آکر قیام پذیر ہوا تھا۔آپ کے والد صاحب کا نام میر احمد علی صاحب تھا۔آپ کی والدہ سردار بیگم صاحبہ حیدر آباد دکن کی معروف و مشہور شخصیت امیر محمد شکور جمعدار صاحب کی صاحبزادی تھیں۔آپ کی ایک بہن غریب النساء بیگم عرف حاجی بیگم صاحبہ اور دو بھائی میر فضل علی عرف فضل احمد اور میر سعادت علی عرف سید علی احمد تھے۔آپ کے والد صاحب کی وفات ۳۸ سال کی عمر میں ۱۸۹۱ء میں ہوئی جبکہ آپ کی اس وقت عمر ساڑھے سات آٹھ سال کی تھی۔آپ کی قبول احمدیت کی وجہ یہ ہوئی کہ ایک مسلمان مولوی عبدالغفور دھرمپال نے ارتداد اختیار کیا اور ”ترک اسلام کتاب لکھی۔آپ کو شدید خواہش پیدا ہوئی کہ اگر کسی نے اس کا جواب لکھا ہے تو وہ بھی پڑھا جائے۔آپ کو ایک احمدی بزرگ مولوی بہاؤ الدین خاں صاحب سے پتہ چلا کہ حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب نے ”ترک اسلام کا جواب ”نورالدین نامی کتاب میں لکھا ہے جس کو پڑھ کر مولوی عبد الغفور دھر مبال دوبارہ مسلمان ہو گیا ہے اور اُس نے اپنا نام غازی محمود رکھ لیا ہے۔آپ نے اس کتاب کا مطالعہ کیا۔اس سے قبل آپ نے اپنے استاد محترم مولوی عبدالمقتدر صدیقی صاحب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور قادیان کا ذکر سنا ہوا تھا۔ایک رات اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا اور رات کے تین بجے تک اس کو پڑھ لیا۔اس کتاب کے مطالعہ کا آپ پر یہ اثر ہوا کہ جو نہی یہ کتاب آپ نے پڑھی تو آپ نے صبح تک سات فل سکیپ سائز کے کاغذات پر اپنے بچپن سے لیکر اب تک کے تمام حالات لکھے اور حضور سے اپنے دامن کو باندھتے ہوئے استدعا کی کہ حضور میرے لئے دُعا فرمائیں۔آپ کی اس تحریری بیعت کا سن ۱۹۰۶ ء ہے۔آپ کو حضرت اقدس علیہ السلام کی زیارت کا با وجود شدید خواہش اور کوشش کے بوجوہ موقعہ نہ ملا۔ابتدائی دینی تعلیم کے بعد آپ نے دار العلوم کالج سے مولوی اور مولوی عالم تک تعلیم حاصل کی۔اور پنجاب یونیورسٹی سے فارسی کے امتحانات دیئے۔آپ کی شادی حضرت مولوی میر محمد سعید صاحب آف حیدرآباد دکن کی صاحبزادی سے ہوئی۔