تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 380
تاریخ احمدیت۔جلد 23 380 سال 1965ء تعلیم حاصل کر رہا تھا۔حضرت حاجی صاحب میرے ماموں صاحب مرحوم کے ہاں اکثر آیا کرتے تھے لیکن اس زمانہ میں میں چونکہ احمدی نہ تھا اور شعور بھی کم تھا اس لیے میں صرف یہی جانتا تھا کہ یہ تہال والے میاں محمد الدین صاحب ہیں۔میرے ماموں صاحب اکثر اوقات حاجی صاحب کے اخلاص تقویٰ اور نیکی کا ذکر کیا کرتے تھے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان ایام میں مجھے ان الفاظ کا مفہوم بھی معلوم نہ تھا۔البتہ اتنا یاد ہے کہ حضرت حاجی صاحب کا جو لباس ۱۹۲۹ء میں تھا وہی لباس اور وضع قطع ۱۹۶۵ء میں تھی۔۔۔۔ایک سعادت انہیں یہ بھی حاصل تھی کہ مسجد مبارک میں ایک لمبے عرصہ تک روزانہ دو تین نمازوں میں امام الصلوۃ ہوتے رہے اور پھر سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار مبارک پر جو اجتماعی دعائیں ہوا کرتی تھیں وہ اکثر طور پر آپ ہی کروایا کرتے تھے۔آپ نے ابلتی ہوئی ہنڈیا کی آواز سنی ہوگی حضرت حاجی صاحب فجر کی نماز کے بعد مزار مبارک پر جا کر دعا کرتے تھے اس وقت ان کی وہی کیفیت ہوتی تھی۔اس وقت دعا کی طوالت اور قلبی رقت کا ایک عجیب منظر ہوتا تھا۔یوں تو درویش بھائی بھی اکثر ان کی خدمت میں دعا کے لیے درخواست کرتے رہتے تھے۔لیکن حاجی صاحب کی بزرگی کی ایک بہت بڑی سند یہ تھی کہ سیدی حضرت قمر الانبیاء مرزا بشیر احمد صاحب قادیان کے جن چند بزرگوں کو جماعتی ترقیات کے لیے دعاؤں کے خطوط تحریر فرمایا کرتے تھے ان میں سے ایک حضرت حاجی صاحب بھی تھے۔حاجی صاحب بڑے فروتن اور سادہ طبع بزرگ تھے۔ان کا لباس سادہ اور صاف ستھرا ہوتا تھا۔سادگی ، خود فراموشی اور تعلق باللہ میں گم رہنے کے باعث بعض اوقات یہ بھی دیکھا گیا کہ پاؤں میں مختلف قسم کے جوتے پہنے ہوتے تھے۔یعنی دائیں پاؤں میں گر گالی اور بائیں پاؤں میں دیسی وضع کا جوتا۔سوئی ہمیشہ ہاتھ میں رکھتے اور تیز تیز چلتے تھے اور نگا ہیں ہمیشہ نیچی رکھتے تھے۔اپنے اپنے ذوق کی بات ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب حضرت ام ناصر والے مکان میں مقیم ہیں وہ جب مسجد میں تشریف لاتے ہیں تو اپنا جوتا یا چپل مسجد مبارک کے ساتھ والے مسقف حصہ میں اتارتے ہیں۔حضرت حاجی صاحب ہمیشہ تاک میں رہتے جب صاحبزادہ صاحب جو تا اُتار کر مسجد میں تشریف لے آئے تو حاجی صاحب جوتے یا چپل کو جوڑ کر سیدھا کر کے پیچھے کی طرف موڑ کر رکھ دیتے یہ ایک چھوٹی سی بات ہے۔لیکن اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان