تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 381
تاریخ احمدیت۔جلد 23 381 سال 1965ء بزرگوں کے دلوں میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد کے لیے احترام و عقیدت کے کتنے گہرے جذبات تھے۔66 ایک ایمان افروز واقعہ آپ نے اس زمانہ میں بیعت کی جبکہ ہر طرف مخالفت کا بازار گرم تھا اور احمدی ہونا گویا اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف تھا۔لیکن آپ نے ان تمام حالات کا بڑی جرات اور خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا۔آپ کی بہادری اور ثبات قدم کا ایک ایمان افروز واقعہ آپ کی نواسی محترمہ صائمہ مریم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ آپ اکثر یہ واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ مخالفت میں اردگرد کے بارہ دیہات سے لوگ اس عزم کے ساتھ اکٹھے ہوئے کہ مجھے ختم کر کے دم لیں گے۔حاجی صاحب نے ان سے کہا کہ آپ نے مجھے مارنا تو ہے ہی لیکن مجھے دو نفل نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں۔چنانچہ آپ قریب کی مسجد میں چلے گئے اور عبادت میں مصروف ہو گئے اور آپ کو وقت کا احساس نہیں رہا۔باہر لوگوں نے چہ مگوئیاں شروع کر دیں کہ لگتا ہے کہ حاجی صاحب ڈر گئے ہیں۔چنانچہ آپ فورا باہر آئے۔آپ کے باہر آنے کی دیر تھی کہ ایک گھڑ سوار اپنا گھوڑا سرپٹ دوڑا تا ہوا قریب آیا اور للکار کر بڑے رُعب سے بولا کہ کوئی بھی اس شخص کو ہاتھ نہ لگائے۔چنانچہ اس کے اس رُعب اور دبدبے کی وجہ سے کسی کو اتنی ہمت نہ ہوئی کہ آپ کے قریب آتا۔لہذا تمام مجمع منتشر ہو گیا۔آپ بتایا کرتے تھے کہ تبلیغ کے سلسلہ میں میں اردگرد کے قریباً سب دیہات میں گیا ہوں مگر میں نے انی کو اپنی زندی میں دوبارہ بھی نہیں دیکھا جسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ یقین خداتعالی کی طرف سے غیبی مدد تھی۔صاحب حضرت اماں جان کی شفقت و محبت حضرت اماں جان آپ سے بے حد شفقت کا سلوک فرمایا کرتی تھیں۔آپ کی نواسی صائمہ مریم لکھتی ہیں کہ نانا جان آپ کی شفقت و محبت کا ایک نہایت ایمان افروز واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میری پہلی بیوی کے بطن سے میرے دو بچے ایک ہی دن میں فوت ہو گئے ، اس نیک بی بی نے قابل تقلید نمونہ دکھایا۔قطعا جزع فزع نہ کی بلکہ تسبیح وتحمید میں لگی رہیں۔ایک طرف اس کی یہ حالت تھی اور دوسری طرف وہ بیعت بھی نہ کرتی تھی۔بالآخر میں اسے قادیان لے آیا۔حضرت اماں جان نے دوعزیز بچوں کے انتقال کا سنا تو آپ نے اس قدر شفقت اور محبت کا برتاؤ کیا اور اس قدر تسلی دی کہ جس سے اس کو اطمینان حاصل