تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 379 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 379

تاریخ احمدیت۔جلد 23 379 سال 1965ء حضرت حاجی صاحب کی پوری زندگی خدمت دین میں گزری۔آپ جماعت احمد یہ تہال متصل کھاریاں کے روح رواں اور ممتاز رکن تھے اور علاقہ بھر میں اُن کی بزرگی اور پارسائی کی شہرت تھی۔تقسیم ہند کے بعد سے ۱۹۶۴ء کے آخر تک بطور درویش قادیان مقیم رہے۔اپنے خلوص، محبت، نیکی اور ریاضت کے اعتبار سے درویشان قادیان میں آپ کو ایک ممتاز مقام حاصل تھا۔آپ ایک نہایت بزرگ شخصیت تھے اور آپ کا وجود درویشوں کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ تھا۔آپ کو حج بیت اللہ اور زیارت مدینہ کی توفیق بھی ملی تھی۔آپ اس کمرہ میں سالہا سال تک مقیم رہے جو مسجد مبارک سے ملحق ہے۔آپ کی زندگی اپنے کمرے سے مسجد مبارک بہشتی مقبرہ، بیت الدعا اور مسجد اقصیٰ تک جانے اور نہایت رقت کے ساتھ دعائیں کرنے اور پھر واپس اپنے گوشہ تنہائی میں پہنچ کر تلاوت اور دعاؤں میں مصروف ہو جانے سے ہی عبارت تھی۔نہایت تیز آنچ پر ابلتی ہوئی ہنڈیا کی طرح رقت قلبی سے دعاؤں کے اوقات میں آپ کی آواز بے اختیار صبر و ضبط کے دائرے سے باہر ہو جاتی تھی۔بڑھاپے کے باوجود آپ بڑی باقاعدگی کے ساتھ مسجد مبارک میں نماز تہجد ادا کرتے اور پھر نماز فجر اور درس سے فارغ ہو کر بہشتی مقبرہ چلے جاتے۔اکثر اوقات صبح کے وقت بہشتی مقبرہ میں پہنچنے والے پہلے خوش نصیب آپ ہی ہوتے۔آپ ناشتہ سے فارغ ہو کر دفتر زائرین میں تشریف لے جاتے اور اپنے فرائض منصبی بجالانے میں منہمک ہو جاتے۔بڑھاپے میں آپ کو اپنے فرزند ڈاکٹر محمد احمد صاحب آف عدن کی وفات کا صدمہ سہنا پڑا۔مگر آپ نے صبر وثبات کا وہی بے مثال نمونہ دکھایا جو خدا والوں کا طرہ امتیاز ہے۔چوہدری فیض احمد صاحب گجراتی اس دردناک خبر کی اطلاع پہنچانے کے لیے مسجد مبارک گئے جہاں آپ ٹہل رہے تھے اور تار کے مضمون سے اطلاع دی۔آپ نے انا لله و انا الیه راجعون پڑھا اور فرمایا اچھا خدا کی مرضی۔اُن کے چہرے پر حزن و ملال کی پر چھائیاں ضرور تھیں کیونکہ جگر کا ٹکڑا دائمی جدائی دے کر چل بسا تھا۔لیکن آپ نے زبان سے وہی ادا کیا جس کا مولائے 26 حقیقی کی طرف سے حکم تھا۔جناب چوہدری فیض احمد صاحب گجراتی نے آپ کے تفصیلی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا: حضرت حاجی صاحب موضع تہال متصل کھاریاں ضلع گجرات و حال مغربی پاکستان کے رہنے والے تھے اور اسی نسبت سے وہ تہالوی کہلاتے تھے۔میں انہیں ۲۹۔۱۹۲۸ء سے جانتا تھا جبکہ میں اپنے ماموں چودھری لعل خاں صاحب ( مرحوم ) جنرل سیکرٹری جماعت احمد یہ کھاریاں کے گھر پر رہ کر