تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 373 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 373

تاریخ احمدیت۔جلد 23 373 سال 1965ء سکتا۔مولا بخش صاحب احمدی نہیں ہوئے مگر مخالفت بھی نہیں کی۔آپ کو لیکچر لاہور کے سننے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔یہ لیکچر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے بیرون بھائی دروازہ عقب مزار حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش کے ایک منڈوہ (میلا رام ) میں ایک عظیم الشان مجمع کے سامنے پڑھا تھا۔جلسہ میں حاضری کے بعد آپ گورداسپور بھی پہنچے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقدمہ کی پیشی کے لیے تشریف لے گئے تھے۔عدالت کے باہر ایک گراؤنڈ میں کھانا کھانے کے لیے دستر خوان بچھایا گیا اور حضرت مع اپنے خدام کے تشریف فرما ہوئے تو آپ بھی حضرت امام علیہ السلام کے سامنے ایک یا دو حضرات کے فاصلہ سے کھانا کھانے کے لیے بیٹھے تھے۔آپ کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ حضور بالکل چھوٹا سا ٹکڑا روٹی کا توڑتے اور ذرا سا سالن لگا کر دہن مبارک میں ڈالتے اور دیر تک اسے چباتے رہتے چنانچہ اسی طرح تمام احباب کے کھانا کھا لینے کے بعد تک حضور علیہ السلام کھاتے رہے۔جب سب خدام کھانا کھا چکے تو آپ نے بھی کھانا چھوڑ دیا۔میں نے خیال کیا کہ اس عرصہ میں شاید آپ نے روٹی کا ۱/۴ حصہ ہی کھایا ہوگا۔صل علی نبینا صل علیٰ محمد میری عمر اس وقت تخمیناً پندرہ سولہ سال کی ہوگی۔آپ حضرت مسیح موعود کے الہام إِنِّي مُهِينٌ مَنْ اَرَادَ اهَانَتَک کے تحت دو عظیم الشان نشانات کے عینی شاہد تھے۔جن کی تفصیل آپ ہی کے الفاظ میں درج ذیل ہے۔ایک شخص مولوی شہلی (شیشم کا درخت) کے نام سے مشہور تھا۔یہ میاں عبدالعزیز صاحب مغل کے مکان کے سامنے شیشم کے درخت پر چڑھ کر بکو اس کیا کرتا تھا۔ہم نے اسے دیکھا کہ وہ ایسا ذلیل ہوا کہ بالکل مخبوط الحواس ہو کر پرانے کپڑوں کی گانٹھ پیٹھ کے پیچھے اُٹھائے پھرتا تھا اور سر پر بھی چیتھڑے ہوتے تھے اور پاگلوں کی طرح پھرا کرتا تھا۔اسی حالت میں مر گیا۔ایک شخص پیر بخش نام ہوا کرتا تھا۔رسالہ تائید الاسلام کا ایڈیٹر تھا۔ایک دفعہ اس نے ہماری دکان پر کہا کہ تم کہا کرتے ہو إِنِّي مُهِينٌ مَنْ اَرَادَ اهَانَتَكَ مرزا صاحب کا الہام ہے۔میں ایک لمبے عرصہ سے تو ہین کر رہا ہوں مجھے کچھ نہیں ہوتا۔شیخ عطاء اللہ صاحب نے ہمیں کہا کہ آج کی تاریخ نوٹ کرلو۔شخص پکڑا گیا ہے۔بڑا امیر آدمی تھا۔اس کا لڑکا حکومت افغانستان کی طرف سے ولایت میں مشینری خریدنے گیا تھا کہ وہاں ہی مر گیا۔جب اس کی وفات کی خبر پیر بخش کو پہنچی تو وہ خبر اس پر بجلی بن کر گری۔چنانچہ اُسے فالج ہو گیا اور اسی مرض میں مبتلا ہو کر وہ مر گیا۔13