تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 372
تاریخ احمدیت۔جلد 23 372 حضرت بابا نور محمد صاحب ولادت : اندازاً ۱۸۶۵ء بیعت: ۱۹۰۰ء سال 1965ء وفات: ۲۷ فروری ۱۹۶۵ء آپ کا تعلق ڈہرانوالی ضلع گوجرانوالہ سے تھا۔آپ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔حضرت چوہدری رحیم بخش صاحب 10 ولادت: ۱۸۷۵ء قریباً بیعت دستی : ۱۹۰۷ء وفات : ۱۴ مارچ ۱۹۶۵ء آپ مولوی عطاء اللہ صاحب فاضل سابق مبلغ فرانس کے والد ماجد تھے۔آپ ابتداء ہی سے پابند صوم وصلوۃ اور کم گو تھے۔اکثر خدا کے گھر میں بیٹھے تلاوت قرآن میں مصروف رہتے تھے۔دنیوی مجالس میں بہت کم حصہ لیتے۔سچی بات بڑی جرات سے بیان کرتے اور مقامی جماعت میں ایک نمایاں اور با اثر وجود تھے۔آپ چک چھورے مغلیاں ضلع شیخو پورہ کے رہنے والے تھے۔اولاد۔ا۔مولوی عطاء اللہ صاحب مولوی فاضل سابق مبلغ فرانس چک چھورے اضلع شیخو پورہ۔چوہدری مشتاق احمد صاحب آکسفورڈ۔چوہدری اسحاق منصور صاحب بی۔اے لاہور ۴۔رابعہ بی بی صاحبہ زوجہ محمد عبد اللہ صاحب چک چهور ۵- خورشید بیگم صاحبہ زوجہ محمد اسحاق ساقی صاحب ۶ - آمنہ بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری مجید احمد کا ہلوں صاحب آف جہانیاں حضرت میاں معراج الدین صاحب پہلوان ولادت : ۱۸۸۰ء بیعت قبل ۱۹۰۰ ء یا ۱۹۰۱ء وفات :۲۲ مارچ ۱۹۶۵ء آپ بھائی دروازہ محلہ پٹڑ نگاں لاہور کے رہنے والے تھے۔آپ حضرت حکیم سراج الدین صاحب کے بھائی تھے۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی بار زیارت قتل لیکھرام کے کچھ عرصہ بعد لاہور میں کی۔جبکہ حضور بھائی دروازے میں کوئی تھیں کے قریب مخلصین کے جلو میں تشریف لے جا رہے تھے۔آپ کے ساتھ اس وقت میاں مولا بخش صاحب دکاندار بھی تھے۔جنہوں نے حضور کو دیکھتے ہی بے ساختہ کہا سبحان اللہ! یہ منہ جھوٹوں کا نہیں ہو