تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 374
تاریخ احمدیت۔جلد 23 اولاد 374 سال 1965ء ا۔ظہور دین صاحب ۲۔بختاور صاحبہ ۳۔سلیمہ صاحبہ حضرت چوہدری جہان خاں صاحب مانگٹ آف مانگٹ اونچے تحریری بیعت : اپریل ۱۹۰۷ ء دستی بیعت مئی ۱۹۰۸ ء وفات : ۲۳ مارچ ۱۹۶۵ء آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریری و دستی بیعت کا شرف حاصل کیا۔آپ اپنے ساتھیوں (حضرت چوہدری محمد خان صاحب اور محترم چوہدری سردار محمد خان صاحب) کی طرح ۱۹۰۷ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کر کے احمدیت سے مشرف ہوئے آپ کو یہ خیال تھا کہ شاید آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیعت کرنے والوں میں سب سے آخری آدمی تھے۔شاید آپ کو اپنی بیعت کا سال یاد نہیں رہایا آپ حضور کے آخری سفر لا ہور میں آپ کی زیارت کے لئے گئے اور اس کا تاثر آپ کے دماغ پر غالب رہا۔جبکہ درست بات یہ ہے کہ اخبار بدر کے مطابق آپ کی بیعت ۱۹۰۷ ء کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد خلافت سے وابستہ ہو گئے اور تا وفات اس پر بڑے اخلاص سے قائم رہے۔خلافت سے بہت محبت تھی ۱۹۴۷ء میں ملک میں افراتفری پھیلی ہوئی تھی آپ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خواہش کے عین مطابق حافظ آباد کے سب احمدی گھرانوں کی حفاظت میں کامیاب ہو گئے۔آپ مانگٹ اونچا کے صدر جماعت بھی رہے۔بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔بڑے سخی ، فراخ دل اور مہمان نواز تھے۔سلسلہ کی راہ میں دل کھول کر خرچ کیا۔احمدیت پر 66 دل و جان سے فدا تھے۔نظام جماعت کی خوش دلی سے پابندی فرماتے۔آپ نے اپنے ایک بیٹے محمد اسلم کو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے قادیان بھیجا۔۱۹۴۸ء میں اسی بیٹے کو فرقان بٹالین میں بھرتی کروا دیا۔باغسر کے مقام پر آپ کا بیٹا دفاع وطن کا جہاد کرتے ہوئے شہید ہو گیا۔آپ نے اس صدمہ کو بڑے حوصلہ سے برداشت کیا اور لوگوں کو کہا کہ میرا بیٹا شہید ہوا ہے اس لئے کسی نے رونا نہیں۔غرضیکہ آپ نے اسلام احمد بیت کی خاطر اپنے مال و اولا د تک کو قربان کر دیا۔اولاد آپ کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔بیٹوں کے نام یہ ہیں:۔راسلم مانگٹ شہید۔چوہدری سلطان احمد مانگٹ۔چوہدری محمدافضل مانگٹ سابق امیر ضلع حافظ آباد