تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 357
تاریخ احمدیت۔جلد 23 357 سال 1965ء دنیا کی چالیس زبانوں میں تقاریر ۱۹ دسمبر کی شب کو (حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی زیر صدارت دنیا کی چالیس زبانوں میں تقاریر ہوئیں اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا جو مکرم عبد الغنی صاحب کریم انڈونیشین نے کی بعدۂ دنیا کی چالیس زبانوں میں تقاریر ہوئیں۔ان میں اردو، بنگالی اور پشتو کے علاوہ بھارت کی زبانوں میں سے ہندی ، گورمکھی اور سنسکرت ، یورپ کی زبانوں میں سے انگریزی، جرمن، ڈچ، فرانسیسی اور اطالوی مشرق وسطی کی زبانوں میں سے عربی اور فارسی، مشرقی افریقہ کی زبانوں میں سے سواحیلی اور لوگنڈی ، مغربی افریقہ کی زبانوں میں سے فینٹی ، اشانٹی چوٹی، جنوب مشرقی ایشیا کی زبانوں میں سے انڈونیشین اور ملائی نیز چینی، ماریشس کی زبان کریول، جزائر فجی کی زبان نجی اور بعض دوسرے ممالک کی زبانیں شامل تھیں۔ان تقاریر میں بیرونی ممالک سے تشریف لائے ہوئے احباب کے علاوہ ربوہ میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبہ اور مبلغین اسلام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ان تقاریر کے لئے سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ایک پُر معارف تقریر کا حسب ذیل اقتباس منتخب کیا گیا تھا: میں خدا کے فضلوں پر بھروسہ رکھتے ہوئے کہتا ہوں کہ میرا نام دنیا میں ہمیشہ قائم رہے گا۔اور گو میں مرجاؤں گا مگر میرا نام کبھی نہیں مٹے گا۔یہ خدا کا فیصلہ ہے جو آسمان پر ہو چکا کہ وہ میرے نام اور میرے کام کو دنیا میں قائم رکھے گا اور ہر شخص جو میرے مقابلہ میں کھڑا ہوگا وہ خدا کے فضل سے ناکام رہے گا۔۔۔۔خدا نے مجھے اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ خواہ مخالف کتنی بھی گالیاں دیں، مجھے کتنا بھی برا سمجھیں بہر حال دنیا کی کسی بڑی سے بڑی طاقت کے بھی اختیار میں نہیں کہ وہ میرا نام اسلام کی تاریخ کے صفحات سے مٹا سکے ، آج نہیں آج سے چالیس پچاس بلکہ سوسال کے بعد تاریخ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ میں نے جو کچھ کہا وہ صحیح کہا تھا یا غلط۔میں بے شک اُس وقت موجود نہیں ہوں گا مگر جب اسلام اور احمدیت کی اشاعت کی تاریخ لکھی جائے گی تو مسلمان مورخ اس بات پر مجبور ہوگا کہ وہ اُس تاریخ میں میرا بھی ذکر کرے۔اگر وہ میرے نام کو اُس تاریخ میں سے کاٹ ڈالے گا تو احمدیت کی تاریخ کا ایک بڑا حصہ کٹ جائے گا۔ایک بہت بڑا خلا واقع ہو جائے گا جس کو پُر کرنے والا کوئی نہیں