تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 355 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 355

تاریخ احمدیت۔جلد 23 355 سال 1965ء کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی اقتداء میں نماز فجر ادا کی جاتی اور پھر محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس قرآن مجید کا درس دیتے۔قرآنی علوم و معارف سے مستفیض ہونے کے بعد احباب بکثرت بہشتی مقبرہ جا کر حضرت اماں جان ، سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے مزارات مقدسہ اور دیگر وفات یافتہ بزرگوں کے مزاروں پر جا کر دعا کرتے۔ر وہاں دعا کرنے والوں کا ایک تانتا بندھا رہتا۔بالخصوص حضرت اماں جان اور سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے مزارات مقدسہ پر تو دعا کرنے والوں کا اتنا ہجوم ہو جا تا کہ بعض احباب کو ان تک رسائی کے لئے ان مزارات مقدسہ کے گرد چاردیواری کے باہر ا نتظار کرنا پڑتا۔جلسہ کے ایام میں ان مزارات پر بھی اللہ تعالی کے حضور اس کثرت سے دعائیں کی گئیں کہ وہاں کی فضا بھی ہمہ وقت درودو سلام اور تحمید و تمجید سے معمور رہی۔سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثانی کے مزار پر انوار پر تو دعا کرتے وقت بعض احباب شدت جذبات کی وجہ سے بچوں کی طرح روتے اور بلکتے ہوئے بھی دیکھے گئے۔بہشتی مقبرہ میں مزارات مقدسہ پر دعا سے فارغ ہونے کے بعد احباب بعجلت کھانے وغیرہ سے فارغ ہوکر جوق در جوق جلسہ گاہ میں پہنچ کر وہاں سارا دن اہم علمی اور دینی موضوعات پر علماء سلسلہ کی تقاریر سننے میں مصروف رہتے۔اس طرح ان ایام میں ان کے شب و روز عبادات دعاؤں اور ذکر الہی میں ہی بسر ہوتے رہے۔چنانچہ اس کثرت سے ذکر الہی بلند ہوا کہ تین دن اور تین رات تک ربوہ اور اس کا ماحول محبت الہی اور محبت رسول کے اذکار مقدس سے گونجتا رہا۔انتظامات پر طائرانہ نظر جلسه سالانه ۱۹۶۵ ء کا رنگ ڈھنگ ہی بالکل نرالہ تھا۔اس کے جملہ انتظامات ایک نئے جوش و خروش کے آئینہ دار تھے۔اور ان میں سلیقہ شعاری ، نفاست، خدمت اور فرض شناسی کی ایک مثالی روح کارفرما نظر آتی تھی۔جلسہ سالانہ کی اصل کارروائی ، تقاریر اور جلسہ گاہ کے جملہ انتظامات مولا نا جلال الدین صاحب شمس ناظر اصلاح وارشاد کے سپرد تھے اور استقبال اور قیام و طعام اور دیگر جملہ ضروریات کو پورا کرنے کی اہم ذمہ داریاں افسر جلسہ سالانہ سید داؤد احمد صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ کے فرائض میں شامل تھیں۔حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب بھٹی، صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب، چوہدری ظہور احمد 203