تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 354 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 354

تاریخ احمدیت۔جلد 23 354 سال 1965ء نے اس موقع پر یہ علم اول رہنے والی مجلس یعنی مجلس احمد نگر کے قائد محمد اسلم صاحب کو مرحمت فرمایا۔20 ریڈیو اور قومی پریس میں جلسے کا ذکر یہ پہلا جلسہ سالا نہ تھا جس کے موقع پر ریڈیو اور ٹیلی وژن کے نمائندوں نے لاہور سے ربوہ آکر جلسہ سالانہ کی ویڈیوریکارڈنگ بھی کی۔اور مختلف مناظر کی تصاویر اتاریں۔چنانچہ ریڈیو پاکستان کی قومی خبروں کے بلیٹن میں جلسہ کے افتتاحی اجلاس اور بالخصوص سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی افتتاحی تقریر کی خبر نشر ہوئی۔نیز قومی پریس میں بھی جلسہ کی کارروائی کی خبر میں جلسہ کے ایام میں مع تصاویر شائع ہوتی رہیں۔201 بیرونی ممالک سے تشریف لانے والے احباب اس بابرکت اور تاریخی جلسہ سالانہ پر بہت سے احباب بیرون ملک سے بھی تشریف لائے تھے جن میں معروف اصحاب درج ذیل ہیں:۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب حج عالمی عدالت ہیگ عبدالستار صاحب سوکیہ۔جنرل پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ ماریشس مع اہلیہ وصاحبزادی صاحبہ، محمد واسواکز بٹ ( یوگنڈا)، چوہدری مختار احمد صاحب ایاز ( یوگنڈا)، اللہ دتہ صاحب گنائی ( یوگنڈا)، حاجی عبدالحمید صاحب (نیروبی)۔دعاؤں اور ذکر الہی کا رُوح پرور ماحول 202 جلسہ میں شمولیت اختیار کرنے والے مخلص احباب نے تقاریر جلسہ سے استفادہ کرنے کے علاوہ حتی الوسع اپنے اوقات ذکر الہی کے ماحول میں گزارے اور راتیں عبادات اور ذکر الہی میں بسر کیں۔جلسہ کے مبارک ایام کے دوران مسجد مبارک میں با قاعدگی کے ساتھ نماز تہجہ باجماعت ادا کی جاتی رہی۔جو حافظ قاری محمد عاشق صاحب نے پڑھائی۔احباب علی الصبح چار بجے سے ہی مسجد میں پہنچنے شروع ہو جاتے یہاں تک کہ ساڑھے چار بجے تک مسجد اور اس کا صحن ہی نہیں بلکہ بیرونی احاطہ بھی نمازیوں سے پُر ہوجاتا۔بہت سے احباب مسجد کے اندر جگہ نہ ملنے کے باعث شدید سردی کے باوجود کھلے میدان کی ٹھنڈی زمین پر ہی کمال محویت کے عالم میں نماز ادا کرتے۔نماز کے دوران نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ دنیا بھر میں غلبہ اسلام پاکستان کی سالمیت و استحکام کامیابی و کامرانی نیز کشمیر کی آزادی کے لئے دعائیں مانگی گئیں۔نماز تہجد