تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 344
تاریخ احمدیت۔جلد 23 344 سال 1965ء مسلمان نہیں۔بلکہ وہ تو حید باری پر پختگی سے قائم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت میں سرشار ہیں۔ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن سے خدا تعالیٰ ہمکلام ہوتا ہے انہیں سچی خوا ہیں آتی ہیں۔اور ہر رنگ میں وہ روحانی نعمتوں سے مالا مال ہیں۔حضور کے وصال پر ان احباب کی طرف سے جو خطوط مجھے موصول ہوئے ہیں۔ان سے ان کے اخلاص کا علم ہوتا ہے۔ان خدا رسیدہ اور خدا کے جاں نثاروں میں سے ایک کا ایک خواب میں بطور نمونہ سناتا ہوں۔تا وہ دوستوں کے از دیا دایمان کا موجب ہو۔وہ خدا رسیدہ اور دین اسلام کا شیدائی ایک حبشی تھا۔جس کا رنگ سیاہ اور ہونٹ لٹکے ہوئے تھے۔دنیا کی مہذب قومیں اسے حقارت سے دیکھتی تھیں۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل خدا تعالیٰ کی نظر کرم اس پر پڑی اور وہ اس سے ہم کلام ہوا۔یہ ہیں ہمارے دوست امری عبیدی اور ان کا انتخاب میں نے اس لیے بھی کیا ہے کہ وہ کچھ عرصہ ہوا جوانی کی عمر میں فوت ہو گئے ہیں۔یہ دوست احمدیت کے شیدائی اور فدائی تھے۔ربوہ میں کچھ عرصہ رہ کر گئے تھے۔وہ خواب بین انسان تھے انہیں بڑی واضح اور سچی خوا ہیں خدا تعالیٰ نے دکھا ئیں۔ایک دفعہ انہوں نے سنایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مسٹر جولیس نیر میرے کرسی پر بیٹھے ہیں مجھے دیکھ کر وہ کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اسی کرسی پر مجھے بٹھا دیا۔کچھ عرصہ تک وہ اس خواب کی کوئی اور تعبیر سمجھتے رہے لیکن یہ خواب اس طرح پوری ہوئی کہ آزادی کے بعد جو لیجسلیٹو کونسل بنی۔اس کے افریقن ممبران کی ایک سوسائٹی تھی اور جو لیس نیریرے جو ٹانگا نی کا افریقن نیشنل یونین کے پریذیڈنٹ ہونے کے باعث لیجسلیٹو کونسل کی افریقن پارٹی کے لیڈر تھے۔اس سوسائٹی کے صدر تھے۔دوسرے سال جب اس سوسائٹی کا انتخاب ہوا۔تو مسٹر جولیس نیر میرے کو دوبارہ صدر چن لیا گیا۔سوسائٹی کے اس اجلاس میں مسٹر جولیس نیر یرے موجود نہیں تھے۔انہیں اطلاع بھجوائی گئی چنانچہ وہ آئے اور انہوں نے شیخ امری عبیدی کو جو اس وقت لیجسلیٹو کونسل کے ممبر بن چکے تھے کو بازو سے پکڑا