تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 338
تاریخ احمدیت۔جلد 23 دکھائی دے گا۔166 پھر آپ نے فرمایا: 338 سال 1965ء خدا تعالیٰ کی صفت علیم جس شان اور جس جاہ وجلال کے ساتھ میرے ذریعہ سے جلوہ گر ہوئی۔اس کی مثال مجھے خلفاء کے زمرہ میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔میں وہ تھا جسے کل کا بچہ کہا جاتا تھا، میں وہ تھا جسے احمق اور نادان قرار دیا جاتا تھا مگر عہدہ خلافت کو سنبھالنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ پر قرآنی علوم اتنی کثرت کے ساتھ کھولے کہ اب قیامت تک امت مسلمہ اس بات پر مجبور ہے کہ میری کتابوں کو پڑھے اور ان سے فائدہ اٹھائے۔وہ کون سا اسلامی مسئلہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ اپنی تمام تفاصیل کے ساتھ نہیں کھولا مسئلہ نبوت ، مسئلہ کفر، مسئلہ خلافت، مسئله تقدیر، قرآنی ضروری امور کا انکشاف، اسلامی اقتصادیات اسلامی سیاسیات اور اسلامی معاشرت وغیرہ پر تیرہ سو سال سے کوئی وسیع مضمون موجود نہیں تھا۔مجھے خدا نے اس خدمت دین کی توفیق دی، اور اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ہی ان مضامین کے متعلق قرآن کے معارف کھولے جن کو آج دوست دشمن سب نقل کر رہے ہیں۔مجھے کوئی لاکھ گالیاں دے۔مجھے لاکھ برا بھلا کہے۔جو شخص اسلام کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے لگے گا۔اسے میرا خوشہ چین ہونا پڑے گا۔اور وہ میرے احسان سے کبھی باہر نہیں جا سکے گا، چاہے پیغامی ہو یا مصری، ان کی اولاد میں جب بھی دین کی خدمت کا ارادہ کریں گی وہ اس بات پر مجبور ہوں گی کہ میری کتابوں کو پڑھیں اور ان سے فائدہ اٹھائیں بلکہ میں بغیر فخر کے کہہ سکتا ہوں کہ اس بارہ میں سب خلفاء سے زیادہ مواد میرے ذریعہ سے جمع ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔پس مجھے یہ لوگ خواہ کچھ کہیں خواہ کتنی بھی گالیاں دیں ان کے دامن میں اگر قرآن کے علوم پڑیں گے تو میرے ذریعہ ہی۔اور دنیا ان کو یہ کہنے پر مجبور ہوگی کہ اے نادانو! تمہاری جھولی میں تو جو کچھ بھرا ہوا ہے وہ تم نے اسی سے لیا ہے پھر اس کی مخالفت تم کس مونہہ سے کر رہے ہو۔خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا اس کے متعلق 193