تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 337
تاریخ احمدیت۔جلد 23 337 سال 1965ء پر سوائے میرے اور کوئی شخص نہیں جسے خدا کی طرف سے قرآن کریم کا علم عطا فرمایا گیا ہو۔خدا نے مجھے علم قرآن بخشا اور اس زمانہ میں اس نے قرآن سکھانے کے لیے مجھے دنیا کا استاد مقرر کیا ہے۔خدا نے مجھے اس غرض کے لیے کھڑا کیا ہے۔کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں اور اسلام کے مقابلہ میں دنیا کے تمام باطل ادیان کو ہمیشہ کی شکست دے دوں۔دنیا زور لگالے۔وہ اپنی تمام طاقتوں اور جمیعتوں کو اکٹھا کر لے۔عیسائی بادشاہ بھی اور ان کی حکومتیں بھی مل جائیں۔یورپ بھی اور امریکہ بھی اکٹھا ہو جائے۔دنیا کی تمام بڑی بڑی مالدار اور طاقتور قو میں اکٹھی ہو جائیں اور وہ مجھے اس مقصد میں نا کام کرنے کے لیے متحد ہو جائیں پھر بھی میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں ناکام رہیں گی۔اور خدا میری دعاؤں اور تدابیر کے سامنے ان کے تمام منصوبوں اور مکروں اور فریبوں کو ملیا میٹ کر دے گا۔اور خدا میرے ذریعہ سے یا میرے شاگردوں اور اتباع کے ذریعہ سے اس پیشگوئی کی صداقت ثابت کرنے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے طفیل اور صدقے اسلام کی عزت کو قائم کرے گا۔اور اس وقت تک دنیا کو نہیں چھوڑے گا جب تک اسلام پھر اپنی پوری شان کے ساتھ دنیا میں قائم نہ ہو جائے اور جب تک محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر دنیا کا زندہ نبی تسلیم نہ کر لیا جائے۔۔۔میں اس سچائی کو نہایت کھلے طور پر ساری دنیا کے سامنے پیش کرتا ہوں یہ آواز وہ ہے جو زمین و آسمان کے خدا کی آواز ہے یہ مشیت وہ ہے جو زمین و آسمان کے خدا کی مشیت ہے یہ سچائی نہیں ملے گی۔نہیں ملے گی اور نہیں ملے گی۔اسلام دنیا پر غالب آکر رہے گا۔مسیحیت دنیا میں مغلوب ہوکر رہے گی۔اب کوئی سہارا نہیں جو عیسائیت کو میرے حملوں سے بچا سکے۔خدا میرے ہاتھ سے اس کو شکست دے گا۔اور یا تو میری زندگی میں ہی اس کو اس طرح کچل کر رکھ دے گا کہ وہ سراٹھانے کی بھی تاب نہیں رکھے گی۔یا پھر میرے بوئے ہوئے پیج سے وہ درخت پیدا ہوگا۔جس کے سامنے عیسائیت ایک خشک جھاڑی کی طرح مرجھا کر رہ جائے گی۔اور دنیا میں چاروں طرف اسلام اور احمدیت کا جھنڈا انتہائی بلندیوں پر اڑتا ہوا