تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 339
تاریخ احمدیت۔جلد 23 339 سال 1965ء میں نے بہت سی تفصیلات جمع کی تھیں لیکن اس وقت میں صرف وہ نقشہ ہی پیش کر سکتا ہوں جو میں نے اس غرض کے لئے تیار کروایا ہے۔اور وہ یہ ہے۔ا۔تفسیر۔اس سلسلہ میں حضور کی ایک کتاب تو تفسیر کبیر ہے جو خود اتنی عجیب تفسیر ہے کہ جس شخص نے بھی غور سے اس کے کسی ایک حصہ کو پڑھا ہوگا۔وہ یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا۔کہ اگر دنیا میں کوئی خدا رسیدہ بزرگ پیدا ہوتا۔اور وہ صرف یہ حصہ قرآن کریم کا تفسیری نوٹوں کے ساتھ شائع کر دیتا۔تو یہ اس کو دنیا کی نگاہ میں بزرگ ترین انسانوں میں سے ایک انسان بنانے کے لئے کافی تھا۔لیکن اس پر ہی بس نہیں۔قرآن کریم پر اور بہت سی کتب لکھیں اور میرا خیال ہے کہ حضور نے صرف قرآن کریم کی تفسیر پر ہی آٹھ دس ہزار صفحات لکھے ہیں۔تفسیر کبیر کی گیارہ مجلدات اب دس جلدیں) بھی ان میں شامل ہیں۔۲۔کلام کے اوپر حضور نے دس کتب اور رسائل لکھے۔۳۔روحانیات، اسلامی اخلاق اور اسلامی عقائد پر اکتیس کتب اور رسائل تحریر فرمائے۔۴۔سیرت وسواخ پر تیرہ کتب ورسائل لکھے۔۵۔تاریخ پر چار کتب ورسائل۔۶۔فقہ پر تین کتب ورسائل۔۔سیاسیات قبل از تقسیم ہند ۲۵ کتب و رسائل۔سیاسیات بعداز تقسیم ہندو قیام پاکستان ۹ کتب ورسائل۔۹۔سیاسیات کشمیر پندرہ کتب اور رسائل۔۱۰۔تحریک احمدیت کے مخصوص مسائل و تحریکات پر ایک کم سو کتب ورسائل۔ان سب کتب و رسائل کا مجموعہ ۲۲۵ بنتا ہے تو جیسا کہ فرمایا تھا کہ وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔ان پر ایک نظر ڈال لیں تو ان میں علوم ظاہری بھی نظر آتے ہیں اور علوم باطنی بھی نظر آتے ہیں اور پھر لطف یہ کہ جب بھی آپ نے کوئی کتاب یا رسالہ لکھا۔ہر شخص