تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 331
تاریخ احمدیت۔جلد 23 331 اور اس کے قیام کی غرض ، وقف جدید اور اسکی اہمیت پر روشنی ڈالی۔اور فرمایا: سال 1965ء اگر آپ تحریک جدید، وقف جدید اور صد را مجمن احمدیہ کے لئے حسب ضرورت مبلغین مہیا کرنے کی ذمہ داری اُٹھا لیں تو خدا تعالیٰ تھوڑے ہی عرصے میں دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر دے گا۔“ ازاں بعد حضور نے جماعت کی ذیلی تنظیموں کے فرائض بیان فرمائے اور انہیں توجہ دلائی کہ آئندہ سال وہ اپنی تمام مجالس کو باقاعدہ منظم اور فعال بنائیں۔علاوہ ازیں خدام الاحمدیہ کو حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حسب ذیل الہام بطور ماٹو عطا فرمایا: تیری عاجزانہ راہیں اس کو پسند آئیں۔حضور نے تاکیدی الفاظ میں فرمایا۔66 خدام الاحمدیہ کو عجز وانکسار، تذلل اور تواضع کا نمونہ ہونا چاہئیے۔یہ کوئی دنیوی جماعت نہیں۔یہ ایک دینی جماعت ہے۔اس کے ہر فرد کا عجز وانکسار، تذلل اور تواضع کے اوصاف سے متصف ہونا ضروری ہے۔جب خدا کے مسیح کو عاجزانہ را ہیں اختیار کرنے کی ضرورت تھی تو ہم متبعین کو بدرجہ اولیٰ عاجزانہ راہوں کی ضرورت ہونی چاہیے اور ہے۔66 ان اہم جماعتی امور پر بلیغ روشنی ڈالنے کے بعد حضور نے پاک بھارت جنگ کے دوران ظاہر ہونے والی خدائی قدرتوں اور نصرتوں کے عظیم الشان جلووں کا اس ولولہ انگیز انداز میں تذکرہ فرمایا کہ فضانعروں سے گونج اٹھی۔پھر حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ان پیہم اور مسلسل افضال پر اگر ہم قیامت تک اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہیں تو بھی شکر کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔جماعت احمدیہ کو اور پوری پاکستانی قوم کو ان غیر معمولی افضال پر جو اللہ تعالیٰ نے اس پر نازل کئے ہیں صحیح معنوں میں اس کے شکر گزار بندے بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ضمناً میں یہ بتا دیتا ہوں کہ شکر کس طرح ادا کیا جاتا ہے۔شکر کا پہلا اور سب سے مقدم طریق یہ ہے کہ ہم کامل تو کل صرف اللہ تعالیٰ پر ہی