تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 332
تاریخ احمدیت۔جلد 23 332 سال 1965ء رکھیں۔مادی طاقتیں اور ان کے مادی اسباب و وسائل کتنے ہی زیادہ اور عظیم کیوں نہ ہوں ہم ان سے کبھی مرعوب نہ ہوں۔وہ خدا کے مقابلہ میں اتنی حیثیت بھی نہیں رکھتیں جتنی حیثیت مٹی کا ایک ذرہ رکھتا ہے۔شکر کا دوسرا طریق یہ ہے کہ ہم اپنی مادی کمزوری اور قلت تعداد کی وجہ سے کبھی مایوس نہ ہوں وہ خدا جس کے گن کہنے سے دنیا پیدا بھی ہو جاتی اور فنا بھی ہو جاتی ہے۔چشم زدن میں ہماری کمزوری کو طاقت میں اور قلت کو کثرت میں بدل سکتا ہے۔جیسا کہ اس نے حالیہ جنگ میں کر کے دکھا دیا۔پس شکر کا ایک طریق یہ ہے کہ ہم مایوسی کو قریب نہ آنے دیں اور خدا پر کامل بھروسہ رکھتے ہوئے اس بات پر یقین رکھیں کہ ہمارا خدا ضرور ہماری مدد کرے گا اور ہمیں کامیابی عطا فرمائے گا۔شکر کا تیسرا طریق ہمارے خدا نے ہم کو یہ بتایا ہے کہ مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمُ يَشْكُرِ الله کہ جو انسانوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار نہیں ہوتا۔پس ہم پر اللہ تعالیٰ ہی کا نہیں بلکہ اپنے محسنوں کا شکر بھی واجب ہے۔اس لئے ہم کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہر وہ فرد اور ہر وہ ملک جس نے اس نازک موقع پر پاکستان کی مدد کی ہے ہم ان کے شکر گزارر ہیں گے اور کبھی ان سے بے وفائی نہیں کریں گے۔اگر ہم اس طرح اور اس رنگ میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کے احسانوں پر اس کے شکر گزار بنیں گے تو وہ لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراہیم : ۸) کے وعدہ کے مطابق پہلے سے بھی زیادہ فضل کے ساتھ ہم کو نوازے گا اور آئندہ ہمیں پہلے سے بھی بڑھ کر کامیابیاں عطا فرمائے گا۔اے خدا تو ہمیں صحیح معنوں میں اپنے شکر گزار بندے بنا اور ہم کو اپنے اُن فضلوں سے نواز جن سے تو اپنے شکر گزار بندوں اور قوموں کو ہمیشہ نوازتا چلا آیا ہے۔(آمین) 187 حضرت مصلح موعود کے عظیم الشان کارناموں کا ایمان افروز تذکرہ حضور نے اس تاریخی جلسہ سالانہ کے آخری اجلاس میں پیشگوئی مصلح موعود کی ایک ایک صفت کو بیان کر کے ثابت فرمایا کہ وہ لفظاً لفظاً پوری ہو چکی ہے۔اور ہم سب اس کے شاہد ہیں۔حضور نے اس