تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 330 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 330

تاریخ احمدیت۔جلد23 330 سال 1965ء علی محمد و آل محمد بھی پڑھتے رہو۔تو تمہیں اس میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوگی۔کام بھی کرتے رہو گے اور درود بھی پڑھتے رہو گے چنانچہ اس کلرک نے درود پڑھنا شروع کر دیا اور جب میں نے فارموں پر دستخط کئے۔تو اس نے بڑا بشاش چہرہ بنا کر مجھے بتایا کہ میاں صاحب! میں نے اتنی بار ( اس نے دو تین سو کے درمیان مجھے کوئی عدد بتایا ) درود پڑھ لیا ہے۔184 166 اہم جماعتی اور قومی امور پر بصیرت افروز تقریر حضرت مصلح موعود کے اسوۂ حسنہ کے مطابق حضور نے ۲۰ دسمبر کو جلسہ کے دوسرے دن کے اجلاس دوم میں اس ایمان افروز تقریر میں عمومی رنگ کے بعض اہم امور پر روشنی ڈالی۔اور سب سے پہلے سلسلہ کے نئے مطبوعہ لٹریچر خرید نے اور اس سے استفادہ کی تحریک کرتے ہوئے سب سے اوّل یہ اصولی وضاحت فرمائی کہ : ”ہمارے لٹریچر میں بنیادی اہمیت کی حامل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ہیں۔اور ان کے بعد خلفاء کی کتب۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوعلم کا اتنا بڑا اخزانہ عطا کیا گیا تھا کہ اس میں قیامت تک پیدا ہونے والے مسائل حل کرنے کے لئے ضروری مواد موجود ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے بعد علم کا دروازہ بند ہو گیا ہے۔اللہ بڑا دیالو ہے۔اس نے چاہا ہے کہ علم کے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں۔چنانچہ ہر سال ایسی کتب شائع ہوتی ہیں۔جو واقعی بڑی کارآمد اور مفید ہوتی ہیں۔جن کو خدا نے توفیق دی ہے۔انہیں نئی کتب تصنیف کرنے میں پوری جد و جہد کرنی چاہئیے۔درجنوں کتب اعلی علمی معیار کی ہر سال شائع ہونی چاہئیں جو حضور کے پیش کردہ دلائل پر مشتمل ہوں۔ان میں نیا مواد شائع نہ بھی ہو۔تو بھی وہ دنیا پر یہ ثابت کریں گی کہ جس طرح قرآن مجید ایک زندہ کتاب ہے اسی طرح حضور کی کتب بھی ایک زندہ لٹریچر کی حیثیت رکھتی ہیں۔جس میں سے نئے نئے معارف نکلتے چلے آتے ہیں اور ان کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔“ ازاں بعد حضور نے سلسلہ احمدیہ کے نظام، صدرانجمن احمد یہ اور اس کے دائرہ کار تحریک جدید