تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 16
تاریخ احمدیت۔جلد 23 16 سال 1965ء تعالی لگا دیا ہے تو یا تو ہر جگہ تعالیٰ ہو یا کسی جگہ بھی نہ ہو۔یہ چیز ہم چیک کر رہے ہیں کہ کا تب کی غلطیاں دور ہو جا ئیں۔اس قسم کی رویژن کو نظر ثانی نہیں کہنا چاہیئے۔کتابت کی غلطیاں دور کرنے کی جو کوشش ہے وہ بڑی تیزی سے جاری ہے لیکن کا تب کی کتابت کا جہاں تک سوال ہے چونکہ ایک ہاتھ رہنا چاہیئے ورنہ وہ خوبصورتی نہیں رہتی۔اس لئے وہ زیادہ سے زیادہ ایک ماہ میں تین سیپارے کتابت کر سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔وہ بھی اس صورت میں کہ ہمیں متن کے بلاک مل رہے ہیں جن سے پھر آگے تصویر میں لے کر شائع کی جارہی ہیں۔تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ابتدائی ٹیکنیکل جو الجھنیں تھیں وہ اب دور ہو گئی ہیں۔ان کی تفصیل میں میں نہیں جاتا۔اب کتابت تو شروع ہو چکی ہے لیکن کتابت پر دس ماہ کا عرصہ کم از کم خرچ ہوگا۔اور پھر اشاعت میں اتنی زیادہ دیر نہیں لگے گی۔لیکن اتنی جلدی دوستوں کے ہاتھ میں نہیں آئے گی جتنی جلدی کا بعض تقاریر سے یہاں تاثر پیدا ہوا ہے لیکن ہم انتہائی کوشش کر رہے ہیں کہ جلد سے جلد اور جیسا کہ ایک دوست نے امدا د فرمائی ہے دوستوں کے ہاتھ میں پہنچ جائے تا کہ اگر دوست چاہیں تو اس کو خرید لیں۔یہ چاہنا آپ کی ذمہ داری ہے۔امید ہے آپ زیادہ سے زیادہ اس کی طرف توجہ فرمائیں گے۔قرآن کریم با ترجمہ بچوں کے لئے نہایت ضروری اور نہایت اہم کام ہے جس کے متعلق میں معذرت کے ساتھ اور معافی کے ساتھ یہ عرض کرتا ہوں کہ ہم سے بڑی کوتاہی ہوئی ہے۔بعض تراجم جو اس وقت موجود ہیں ان میں بڑی کثرت کے ساتھ غلطیاں پائی جاتی ہیں۔ہم کوشش کریں گے کہ اس سال کوئی معیاری ترجمہ جو موٹا موٹا لکھا ہو جسے چھوٹا بچہ بھی پڑھ سکے جماعت کے بچوں کے ہاتھ میں آسکے۔آپ ہمارے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کام کے سرانجام دینے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔قواعد صد را انجمن احمدیہ کے متعلق نصیحت کرنا یا تنقید کرنا یہ ضروری بھی ہے لیکن آسان بھی ہے اور یہ کام چونکہ ضروری ہے اس لئے یہ تنقید بڑی ضروری ہے ہونی چاہیئے۔لیکن جو مختلف اوقات میں غالباً اگر میری یادداشت ساتھ دیتی ہے تو ۳۵ ء یا ۳۶ء میں وہ قواعد چھپے تھے۔اُس وقت سے اس وقت تک سینکڑوں (اگر ہزاروں نہیں ) نئی تبدیلیاں اور حضور کے نئے ارشادات آچکے ہیں۔ان سب کو جمع کرنا ہے پھر بھی اس میں کوتا ہی رہ جائے گی پھر بھی ہم تنقید سنیں گے اور بڑی بشاشت سے سنیں گے کہ حضور کا فلاں ارشاد درج ہونے سے رہ گیا کیونکہ ہم انسان ہیں۔ہم سے غلطیاں ہوسکتی ہیں اور ہوں گی۔