تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 15
تاریخ احمدیت۔جلد 23 15 سال 1965ء مشاورت کے چار اجلاس ہوئے جن میں ایجنڈا کے مطابق متعدد اہم تجاویز زیر غور آئیں اور سفارشات کی گئیں۔نمائندگان کی طرف سے سب سے زیادہ تفصیلی بحث صدر انجمن احمد یہ پاکستان کے بجٹ پر کی گئی۔بحث کے بعد صدر صدر انجمن احمدیہ ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے حسب ذیل تقریر فرمائی:۔وو سب سے پہلے تو میرے دل میں جذبات کا ایک شدید ہیجان ہے اس کا اظہار ایک فقرہ میں میں کردوں تو بہتر ہے اور وہ یہ کہ ہمارے دوستوں نے بڑے ہی پیار اور بڑے ہی درد کے ساتھ مختلف اور کثرت کے ساتھ تجاویز ہمارے سامنے رکھی ہیں اور میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ جن سے میں احباب کا شکریہ ادا کروں اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر دے۔پہلی بات جو میں تجاویز کے متعلق کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ قرآن کریم ہماری زندگی ، ہماری روح، ہماری جان ہمارا سب کچھ ہے۔اور ہر احمدی خواہ وہ بچہ ہو جوان ہو یا بوڑھا ، مرد ہو یا عورت۔اس کو قرآن کریم سیکھنا چاہیئے ہمیں ان کو سکھانا چاہیئے اور یہ احساس جماعت میں شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے کہ قرآن کریم با ترجمہ جو تفسیر صغیر کی شکل میں حضور نے جماعت کے ہاتھ میں دیا اور قرآن کریم با ترجمہ جو ہر احمدی بچے کے پاس ہونا چاہیئے۔وہ مختلف نوع کے ترجمے ہیں۔اپنے ترجمہ کے لحاظ سے بھی شاید اور اپنی چھپائی وغیرہ کے لحاظ سے بھی یہ دونوں ضرورتیں ہیں جنہیں جماعت کو پورا کرنا چاہیئے۔تفسیر صغیر کے ترجمہ پر نظر ثانی ہو رہی ہے۔نظر ثانی کا صرف یہ مطلب ہے کہ جو پہلا ایڈیشن تفسیر صغیر کا شائع ہوا وہ بھی دوست عام طور پر نہیں جانتے ہوں گے کہ وہ ایک ایڈیشن نہیں ہے بلکہ دوران اشاعت یا طباعت حضور اس میں نظر ثانی کرتے اور ترمیم کرتے رہے ہیں اس لئے کہ اسے حضور نے بڑی جلدی طبع کروایا تھا۔حضور اس کی اشاعت کرنا چاہتے تھے تو بعض باتیں جو سامنے آئیں حضور نے ان میں ترمیم کی۔چنانچہ آپ کو تین یا چار قسم کی تفسیر صغیر ملے گی یعنی بعض میں کوئی بڑی چیز ہے اور بعض میں نہیں۔لیکن پھر بھی کا تب صاحب نے جو جرات مندانہ کچھ نامناسب اقدامات اس کے اندر کر دیئے تھے مثلاً کچھ اپنی طرف سے بڑھا دیا تھا۔لفظی طور پر ان کو دیکھا جانا ضروری ہے۔بعض جگہ کا تب چھوڑ بھی جاتا ہے۔صرف یہ نظر ثانی ہو رہی ہے مثلاً حضور کا یہ ایک طریق ہے۔میں واضح کر دیتا ہوں تا کہ دوست سمجھ جائیں کہ جہاں قرآن کریم میں اللہ کا لفظ آیا ہے وہاں ترجمہ میں بھی اللہ کا لفظ ہے ” تعالی ساتھ نہیں تھا لیکن کہیں کہیں کا تب صاحب نے ترجمہ کے ساتھ