تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 309
تاریخ احمدیت۔جلد 23 309 سال 1965ء جلسه ۱۹۶۴ء میں حاضری کا انداز ۸۰۰ ہزار اور ایک لاکھ کے درمیان کا ہے۔یعنی بعض لوگوں کا تو خیال ہے کہ اس جلسہ پر حاضری ایک لاکھ تھی اور غالبا اخبار میں بھی یہی چھپا ہے لیکن بعض لوگ جو کنزرویٹو خیال کے ہیں یعنی بہت محتاط اندازہ لگانے والے ہیں۔وہ مردوں اور عورتوں کی حاضری کا انداز ۸۰۰ ہزار بتاتے ہیں۔پس خلافت ثانیہ کے زمانہ میں جماعت نے جو ترقی کی اس سے وہ بشارتیں پوری ہوئیں جو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دی تھیں۔ایک سرسری اور طائرانہ نظر آپ تمام گزشتہ جلسوں پر ڈالیں تو آپ کے سامنے گراف کی شکل میں ایک تصویر آجاتی ہے کہ کس طرح یہ جماعت چھوٹی سی بلندی سے تیزی کے ساتھ آسمان کی طرف چڑھتی گئی اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے اندازہ کے مطابق حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی وفات کے موقع پر ۳۵ ہزار اور ۴۵ ہزار کے درمیان دوست باہر سے ربوہ تشریف لائے تا کہ حضور کا دیدار کر سکیں اور جنازے میں شامل ہوسکیں۔اس طرح ایک بڑا مالی بار جماعت کے کندھوں پر پڑا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر مسیح موعود کے مشن کی کامیابی کی خاطر اور الہی برکات کے حصول کی خاطر جن کے ہمیں وعدے دیئے گئے ہیں۔ہمیں اپنے مالوں کو بہر حال قربان کرنا پڑے گا کیونکہ مومن اپنے کو خدا کے فضلوں سے محروم کرنا ہر گز پسند نہیں کرتا۔اس لئے تمام احباب جماعت کو درد بھرے دل کے ساتھ نہایت محبت اور پیار کے ساتھ اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ آئندہ جلسہ سالانہ پر پہلے کی نسبت زیادہ تعداد میں آئیں تا دُنیا بھی یہ دیکھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی پیشکر دہ بشارات کے پورا ہونے میں کوئی وقفہ نہیں ہوا۔اور یہ جماعت خدا تعالیٰ کے ہاتھ نے کچھ اس طرح تیار کی ہے کہ وہ ہر گز گوارا نہیں کرتی کہ اس کی زندگی کا ایک منٹ بھی ایسا گزرے جس میں اس نے خدا تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کو جذب نہ کیا ہو اور تاد نیا مشاہدہ کرے کہ ہر قسم کی رحمتیں، ہر قسم کے فضل اور ہر قسم کی بشارتیں دین کے لئے اور دنیا کے لئے اس جماعت کو دی گئی ہیں۔۔پس ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ان میں سے ہر ایک بشارت سے ہم وافر حصہ