تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 308
تاریخ احمدیت۔جلد 23 308 سال 1965ء میں استحکام جماعت کی طرف ہی ساری توجہ دینی پڑی کیونکہ جماعت کو سنبھالنا بہت ضروری تھا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرب میں ارتداد کا ایک سیلاب امڈ آیا تھا اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں بھی بعض کمزوریاں ظاہر ہونے لگی تھیں۔پس حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی ساری توجہ اور کوشش اور ساری جد و جہد یہی رہی کہ جماعت کو سنبھالا جائے اور جماعت کا استحکام مضبوط کیا جائے اور اس امر کا ثبوت ہمیں جلسوں کی تعداد سے ملتا ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں جو آخری جلسہ ۱۹۱۳ء میں ہوا اس میں الفضل ۳۱ دسمبر ۱۹۱۳ء کے مطابق حاضرین کی تعداد پھر تین ہزار تک پہنچ گئی گویا حضور نے جو استحکام جماعت کی طرف توجہ دی اس کا نتیجہ ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ خلافت کے آخری جلسہ میں بھی حاضری ۱۹۰۷ء کے جلسہ کی تعداد تک پہنچ گئی۔گویا وہ کمزوریاں اور خامیاں جو اس وقت حضور کی دور بین اور باریک بین نگاہ دیکھ رہی تھی انہیں حضور ( حضرت خلیفہ اول) دُور کرنے میں کامیاب ہو گئے اور جماعت کو پھر سے مستحکم بنیادوں پر کھڑا کر دیا۔اور پھر جلسہ میں حاضری کی تعداد تین ہزار تک پہنچ گئی۔اس کے بعد خدا تعالیٰ کی برکات اور اسکے فضلوں کا ایک دھارا تھا جو ۱۹۱۴ء سے بہنا شروع ہوا اور جماعت کو کہیں سے اُٹھا کر کہیں تک لے گیا۔چنانچہ ۱۹۱۴ء کا جلسہ جو خلافت ثانیہ کا پہلا جلسہ تھا اس میں حاضری کی تعداد گری نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑھی حالانکہ یہ جلسہ ایسے وقت میں منعقد ہوا جبکہ ایک گروہ جماعت سے علیحدہ ہو گیا تھا، خلافت کا منکر ہو چکا تھا۔یہ جلسہ ایسے وقت میں ہوا جبکہ سینکڑوں آدمی خلافت سے منحرف ہو کر خلافت کی تنظیم سے باہر نکل چکے تھے۔بظاہر ۱۹۱۴ء کے جلسہ کی حاضری کم ہو جانی چاہیے تھی لیکن خدا تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ یہ تعداد گری نہیں بلکہ بڑھی۔چنانچہ الفضل ۳۱ دسمبر ۱۹۱۴ء کی رپورٹ کے مطابق اس جلسہ میں ۳۲۵۰ مہمان باہر سے شامل ہوئے۔اس طرح اڑھائی سو کی حاضری زیادہ ہوئی۔اڑھائی سو کی اس زیادتی کا مطلب یہ ہے کہ ان نامساعد حالات میں بھی 9 فیصدی کا اضافہ ہوا اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے زمانہ کے آخری