تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 289
تاریخ احمدیت۔جلد 23 289 سال 1965ء ساتھ شامل ہو گئے ہیں اور اس طرح اپنے رب کے حضور گریہ وزاری کے ساتھ دعائیں کرنے لگ گئے ہیں۔اس دن تو ہم نے یہ خیال کیا کہ اگر خدا چاہے۔اور ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے تو وہ حضور کو صحت عطا کر سکتا ہے۔وہ بڑی طاقتوں اور قدرتوں والا ہے۔چنانچہ یہاں اجتماعی دعا کا انتظام کیا گیا۔اور بڑی گریہ وزاری کے ساتھ دعا کی گئی۔لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ جو نظارہ اُس دن اس کو دکھایا گیا۔وہ اُس اجتماعی دعا کے وقت کا نظارہ نہ تھا۔بلکہ اس شام کا نظارہ تھا۔(مغرب کے بعد کا ) جس شام کو مجلس انتخاب کے ممبر مسجد مبارک کے اندر مشورہ کر رہے تھے۔اور بوجہ ممبر ہونے کے میں اور خاندان کے بعض دوسرے افراد بھی اس میں شامل تھے۔لیکن خدا شاہد ہے کہ اس کا رروائی کا بیسواں حصہ بھی میرے کان میں نہیں پڑا۔کیونکہ ہم لوگ پیچھے بیٹھے یہ دعا کر رہے تھے کہ اے خدا! جماعت کو مضبوط اور مستحکم بنا۔اور خلافت کو قائم رکھ اور دل میں یہ عہد کیا تھا کہ جو بھی خلیفہ منتخب ہوگا۔ہم اس سے کامل اتباع اور اطاعت کا حلف اٹھائیں گے اور جماعتی اتحاد اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھ دیکھ کر خوشی خوشی ، ہم واپس جائیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں تفرقہ پیدا نہیں ہوا۔اور ہمارا جو فرض تھا آرام کے ساتھ ہم اس سے سبکدوش ہو گئے۔اس مسجد میں جو لوگ بھی اس اجلاس میں شامل تھے۔میرا یہی احساس تھا کہ ان میں سے کوئی شخص بھی وہ نہ رہا تھا جو پہلے تھا۔یعنی اس کے دماغ پر بھی اللہ تعالیٰ کا تصرف تھا۔اس کی زبان پر بھی خدا تعالیٰ کا تصرف تھا نہ کوئی بحث ہوئی اور نہ ہی کوئی جھگڑا۔سب ایک نتیجہ پر پہنچ گئے اور اللہ تعالیٰ نے اس طرح پر یہ پیشگوئی پوری کی کہ یہ آخری ابتلاء ہے۔دشمن اس قسم کی خوشی پھر نہ دیکھے گا۔چنانچہ بعض غیر مبائع اکابر کو یہ کہتے بھی سنا گیا ہے کہ سچی بات یہی ہے کہ خلافت کے بغیر جماعت ترقی نہیں کر سکتی اور اگر حضرت خلیفہ اول انتخاب خلافت کے متعلق اس قسم کے قواعد بنا جاتے جو حضرت خلیفہ ثانی نے جماعت پر احسان کرتے ہوئے بنائے۔تو پھر ۱۹۱۴ ء والا تفرقہ پیدا ہی نہ ہوتا۔