تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 290 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 290

تاریخ احمدیت۔جلد 23 290 سال 1965ء تو حضرت خلیفہ ثانی کو جو اللہ تعالیٰ نے بتایا وہ ایک زبردست پیشگوئی تھی کہ ہم تجھے توفیق دیں گے کہ تم جماعت کی تربیت ایسے رنگ میں کر سکو کہ جب تمہیں ہمارا بلاوا آوے تو تمہیں یہ غم اور فکر نہ ہو کہ جب میں اس گھر میں داخل ہوا تھا تو اس وقت بھی ایک فتنہ تھا اور جب میں اس گھر سے جا رہا ہوں تو اس وقت بھی ایک فتنہ چھوڑ کے جا رہا ہوں۔بلکہ خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ تسلی دی تھی کہ جب تم اس دنیا کو چھوڑو گے تو یہ فتنہ کبھی پیدا نہ ہوگا۔جس کو تم نے شروع میں دیکھا تھا۔چنانچہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں نے اپنا کام دکھایا۔اور جماعت کو اس طرح متحد اور متفق کر دیا کہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مصرع کہا ہے۔”ہر سینہ شک سے دھو دیا۔ہر دل بدل دیا۔یہ وہ نظارہ تھا۔جو ہمیں اس وقت نظر آ رہا تھا۔مسجد کے اندر بیٹھے ہوئے لوگوں میں بھی اور باہر بیٹھے لوگوں میں بھی۔ہر آدمی کی اپنی طبیعت ، اپنا خیال اپنی سوچ و بچار، اپنا فکر و تدبر ہوتا ہے لیکن وقت انتخاب وہ اپنا وجود کلیۂ کھو بیٹھے تھے اور کسی اور کی گرفت میں تھے۔اور وہی کچھ کر رہے تھے جو خدا اُن سے کروانا چاہتا تھا۔165 حضرت خلیفہ مسیح الثالث کا جامعہ احمدیہ میں ایک اہم خطاب سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جامعہ احمدیہ کے اساتذہ اور طلباء سے بروز ہفتہ بتاریخ ۱۳ نومبر ۱۹۶۵ ء جامعہ کے ہال میں ایک اہم خطاب فرمایا۔مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد جامعہ احمدیہ سے یہ سب سے پہلا خطاب تھا۔اجلاس کی کارروائی شروع ہونے پر پہلے لئیق احمد صاحب طاہر نے سورۃ نور کے ساتویں رکوع کی تلاوت کی۔اس کے بعد مکرم و محترم سید داؤ د احمد صاحب پر نسپل جامعہ احمدیہ نے حضور کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا۔سپاس نامہ کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ”میرا اس جامعہ سے بڑا دیرینہ اور گہرا تعلق ہے۔جب میں نے ہوش سنبھالی یا