تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 288 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 288

تاریخ احمدیت۔جلد 23 288 سال 1965ء - اب جب خود آپ کا وصال ہوا۔تو ہم اس کے بعد کے دنوں کے حالات کو دیکھتے ہیں۔ہر احمدی ایک موت کی سی حالت دیکھتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ہر ایک احمدی کے دل میں حضرت خلیفہ ثانی کی اتنی محبت پیدا کی تھی اور پھر آپ کو احباب جماعت پر اس کثرت اور وسعت کے ساتھ احسان کرنے کی ، ان کے غموں میں شریک ہونے کی ، ان کی خوشیوں میں شامل ہونے کی ، ان کی ترقیات کے سامان پیدا کرنے کی ، کوشش کرنے کی اس قدر توفیق دی تھی کہ ہر شخص سمجھتا تھا کہ گویا آج میری ہی موت کا دن ہے۔بعض احمدی حضور کی اس بیماری کے دوران اپنی کم عقلی کی وجہ سے بعض نادانی کی وجہ سے بعض کمزوری کی وجہ سے اور شاید بعض شرارت کی وجہ سے بھی اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے۔جو ہمارے کانوں میں بھی پڑتی تھیں کہ گویا جماعت میں بڑا تفرقہ پیدا ہو چکا ہے لیکن یہ باتیں اس وقت سے پہلے تھیں۔جب اس موہومہ تفرقہ نے اپنا چہرہ دنیا کے سامنے دکھانا تھا جب وہ وقت آیا تو وہ لوگ جو یہاں تھے وہ گواہ ہیں اور ان میں سے ہر ایک شخص شاہد ہے اس بات کا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرشتوں کی فوج بھیجی ہے۔اور اس نے جماعت احمدیہ پر قبضہ کر لیا ہے اور جس طرح گڈریا بھیڑوں کو گھیر لیتا ہے۔اسی طرح اس فوج نے ہم سب کو گھیرے میں لے لیا ہے۔اور کہا کہ ہمیں اس لئے بھیجا گیا ہے کہ ہم تمہیں بھٹکنے نہ دیں۔اس وقت کسی کے دماغ میں خیال نہ تھا کون خلیفہ منتخب ہوتا ہے یا کون نہیں۔لیکن ہر دل یہ جانتا تھا کہ خلافت قائم رہے گی اور خلیفہ منتخب ہوگا اور خلافت کی برکات ہم میں جاری وساری رہیں گی۔چند دن پہلے ہماری ایک احمدی بہن نے خواب دیکھی۔غالباً حضور کی وفات سے دو دن یا تین دن پہلے کی بات ہے۔یعنی اُس شام سے پہلی رات جب یہاں اجتماعی دعا ہوئی ہے اس بہن نے خواب یہ دیکھی کہ مسجد مبارک میں بہت سے احمدی جمع ہیں اور بڑی گریہ وزاری کے ساتھ دعا کر رہے ہیں۔وہ کہتی ہے کہ جب میں نے مغرب کی طرف نگاہ کی تو میں نے دیکھا کہ سینکڑوں ہزاروں فرشتے سفید لباس میں ملبوس بڑی تیزی کے ساتھ دوڑتے چلے آرہے ہیں اور وہ دعا کرنے والے انسانوں کے