تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 275 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 275

تاریخ احمدیت۔جلد 23 275 سال 1965ء کمیٹی مقرر فرمائی اس کا ایک ممبر آپ کو بھی نامزد فرمایا۔فرقان فورس کے فوجی اشارات میں آپ فاتح الدین کے نام سے موسوم ہوتے تھے۔کشمیر آزاد کرانے کا عزم صمیم فرقان بٹالین کو جب پہلی جنگ بندی کے بعد جون ۱۹۵۰ء میں دوسرے رضا کار مجاہدوں کی طرح سبکدوش کر دیا گیا تو آپ نے پر شوکت اعلان فرمایا : ”ہم نے کشمیر میں اپنے شہید چھوڑے ہیں جگہ جگہ ان کے خون کے دھبوں کے نشان چھوڑے ہیں ہمارے لئے کشمیر کی سرزمین اب مقدس جگہ بن چکی ہے ہمارا فرض ہے کہ جب تک ہم کشمیر کو پاکستان کا حصہ نہ بنالیں اپنی کوششوں میں کسی قسم کی کوتاہی نہ آنے دیں۔اگر چہ کامیاب جدو جہد کے بعد فرقان“ کو سبکدوش کیا جارہا ہے لیکن جس جہاد کا ہم نے خدا سے وعدہ کیا ہے اس میں سبکدوشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا خدا تعالیٰ کا منشاء یہی معلوم ہوتا ہے کہ قربانیوں کا یہ دور چلتا چلا جائے اور اس نیت کی ہر قربانی سلسلہ کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کرنے کا موجب ثابت ہوتی رہے۔154 سُنت یوسفی کے مطابق قید و بند ۱۹۵۳ء میں احرار کی اینٹی احمد یہ تحریک کے نتیجہ میں لاہور میں مارشل لاء لگا دیا گیا۔اسی مارشل لاء میں حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور آپ کو سنت یوسفی کے مطابق قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔یکم اپریل ۱۹۵۳ء کو گرفتاری ہوئی اور ۲۸ مئی ۱۹۵۳ء کو ان بزرگوں کی رہائی عمل میں آئی۔مجلس انصار اللہ کی صدارت ۱۹۵۴ء میں آپ بطور نائب صدر مجلس انصار اللہ مرکز یہ مقرر ہوئے (اس دوران حضرت خلیفہ المسیح الثانی بطور صدر مجلس انصاراللہ نگرانی فرمارہے تھے ) پھر ۱۹۵۹ء سے آپ کو مجلس انصاراللہ کی زمام قیادت سپرد کی گئی۔(منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد پھر آپ نے یہ عہدہ ۱۹۶۸ء تک اپنے پاس