تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 190
تاریخ احمدیت۔جلد 23 190 سال 1965ء مرحوم و مغفور سے جماعتی رنگ میں بھی اور ذاتی طور پر بھی امداد حاصل ہوئی۔کشمیر کے ہر مکتب فکر کے سیاسی لیڈر کو میرزا صاحب کی اس ہمدردی اور کوشش کا اعتراف ہے۔اور تا زیست رہے گا۔دو بار شرف گفتگو کشمیر سے میرزا صاحب کو جو محبت و عقیدت تھی۔اس کے اظہار اور بیان کے لئے کئی کتابیں درکار ہیں۔راقم الحروف کو ان سے گفتگو کرنے کا دوبار شرف حاصل ہوا۔دونوں مرتبہ اس عظیم اور محبوب انسان نے اپنی علالت طبع کے باوجود کئی کئی گھنٹے قصر خلافت میں ملاقات کا وقت دیا۔ایک بار ہم بہت سے دوست مشہور اور مقتدر صحافی مولوی ظہور الحسن صاحب ( جو میرے بڑے واجب الاحترام دوست اور بزرگ ہیں) کی وساطت سے ملے۔میرزا صاحب۔۔۔سوئٹزر لینڈ سے تشریف لائے تھے۔ڈاکٹروں نے مکمل آرام کا مشورہ دیا تھا۔ہم نے ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔جو آپ نے قبول فرمائی۔ان کے پرائیویٹ سیکرٹری نے کہا کہ ملاقات صرف دس منٹ کے لئے ہو گی۔مگر جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ان میں سے بہت سے لڑکے کشمیر کی ریاست کے رہنے والے ہیں۔تو انہوں نے وقت کی پابندی ختم کر دی۔آپ نے ہمیں کشمیر کی ریاست کی کہانی اور سیاست کے سارے اسرار و رموز سے آگاہ کیا۔ان کا پُر نور چہرہ کشمیر کا نام سنتے ہی سرخ اور پُر جلال ہو گیا۔آنکھوں میں چمک تھی۔مگر ایسے معلوم ہوتا تھا کہ آبدیدہ ہیں۔شیر کشمیر کا ذکر بڑی محبت سے کیا۔اس کی مشکلات کا تذکرہ کیا۔اور وہ باتیں بتائیں جو انہوں نے اُس وقت کے وزیر اعظم چودھری محمد علی کو کشمیر سے متعلق کہی تھیں۔اس ملاقات کے دوران میں فرمایا کہ کشمیر کے متعلق جو کچھ پوچھنا ہے۔مجھ سے کیا پوچھتے ہو۔(اور پھر مولوی ظہور الحسن صاحب کی طرف اشارہ کر کے کہا) اس سے پوچھو۔جس نے اپنی عمر عزیز کا بیشتر حصہ اس تحریک میں گزارا ہے۔کشمیر کے لئے انہوں نے کشمیر کمیٹی بنائی۔چودھری ظفر اللہ خاں، شیخ بشیر احمد اور دیگر وکلاء کو کشمیریوں کے مقدمات کے لئے بھیجا اور جنگِ کشمیر کے دوران جماعت احمدیہ کی ”فرقان فورسز“ محاذ پر لڑتی رہیں۔سیاسیات کشمیر کا بانی میرزا صاحب کو کشمیریوں کے مقدمہ میں جو دلچسپی اور اُنسیت تھی اس کا اندازہ اس بات سے ہی