تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 191
تاریخ احمدیت۔جلد 23 191 سال 1965ء لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اس مسئلہ کو اولیت دی۔اس کے لئے قربانیاں دیں اور اس کے لئے وہ وہ کچھ سنا۔اور برداشت کیا جو صرف اُن جیسے بڑے ظرف والا انسان ہی سن کر برداشت کر سکتا تھا۔میرزا صاحب عملاً گزشتہ کئی سالوں سے جماعتی سرگرمیوں سے علیحدہ تھے۔مگر مجھے یقین ہے کہ وہ اس گوشہ نشینی میں بھی کشمیر کی صورتحال سے باخبر رہتے ہوں گے۔جماعت احمدیہ سے وابستہ لوگوں کو تو اس بات پر غم اور افسوس ہے کہ ان کا عظیم رہنما اور مذہبی پیشوا ان سے بچھڑ گیا ہے۔اور میں آج حیران و غمگسار ہوں کہ سیاسیات کشمیر کا بانی کشمیریوں کا حسن اور ہمدرد اور ایک عظیم انسان جو مرد مومن بھی تھا اور مرد مجاہد بھی اس دنیا سے اٹھ گیا ہے۔میں سوچتا ہوں۔کیا اُن کے جانے کے بعد بھی ربوہ سے کشمیریوں کے لئے آواز اٹھتی رہے گی؟ جماعت احمدیہ کے کارکن اور ایثار پیشہ نو جوان اب بھی ” فرقان فورسز میں حصہ لیں گے؟ کیونکہ کشمیر جل رہا ہے۔کشمیر کی آزادی کی منزل قریب ہے۔کشمیریوں کو اس منزل کا راستہ میرزا بشیر الدین محمود احمد نے دکھایا تھا۔مگر افسوس کہ وہ جس نے اس چراغ کو روشن کیا تھا۔کشمیریوں کی آزادی کا دن دیکھنے سے پہلے ہی چل بسا۔انا لله و انا اليه راجعون۔اس لئے ہم سب کا اور بالخصوص جماعت احمدیہ کا فرض اولین ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحریک کشمیر میں دلچسپی لیں۔کیونکہ یہ وہ امانت ہے جو ان کا عظیم المرتبت قائد ان کے سپر د کر گیا ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں جگہ بخشے۔آسماں اس کی لحد پر شبنم افشائی کرے سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے سوگوار کلیم اختر۔لاہور سناب راغب مراد آبادی کا شذرہ اور اشعار 125 موت العالم ، موت العائم امام جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود احمد اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو تقریباً سوا دو بجے اس عالم فانی سے راہگزار ائے عالم جاودانی ہوئے۔انا للہ و انا اليه راجعون۔ت سے کس کو رستگاری ہے آج وہ کل ہماری باری ہے موصوف کی عمر بوقت سفر آخرت ۷۷ برس تھی۔آپ نے بقید حیات نہایت خلوص، محبت ، فکر و موت