تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 176
تاریخ احمدیت۔جلد 23 176 سال 1965ء مشرق۔۱۰نومبر ۱۹۶۵ء: میں نے ربوہ میں کیا دیکھا کے زیر عنوان مشرق کے وقائع نگار خصوصی نے لکھا:۔تالمود میں یہ پیشگوئی آئی ہے کہ مسیح کا جب دوبارہ ظہور ہوگا تو اس کے بعد ہی اس کا بیٹا خلیفہ بنے گا اور پھر اس کے بعد مسیح موعود کا پوتا خلیفہ بنے گا۔یہ بات جماعت احمدیہ کے ایک رکن نے میرے اس سوال کے جواب میں کہی کہ مرزا بشیر الدین محمود کے انتقال کے بعد کسی شخص کے خلیفہ منتخب ہونے کا امکان ہے۔کون کون حضرات امیدواروں میں شامل ہیں۔انہوں نے واضح جواب دینا مناسب خیال نہیں کیا۔کہنے لگے ہمارے ہاں کوئی امیدوار نہیں ہوتا۔اور پھر وہ انتخاب کے پیچیدہ ضوابط بیان کرنے لگے۔میں نے پھر اصرار کیا کہ آخر لوگوں کے ذہن میں کچھ نام تو ہوں گے، جن میں سے کوئی ایک منتخب ہو جائے گا ؟ انہوں نے کہا اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔البتہ تالمود میں یہ پیشگوئی آئی ہے کہ “ اور اس پیشگوئی کی تعبیر یوں نکلی کہ اس گفتگو کے دو گھنٹے بعد ی مجلس انتخاب کا اجلاس ختم ہوا تو احمد بیت کے بانی مرزا غلام احمد کے پوتے مرزا ناصر احمد خلیفہ اسیح الثالث منتخب ہو چکے تھے۔اس اجلاس کی روئداد منظر عام پر نہیں لائی گئی۔کیونکہ بعد میں جب فرقے کے عام لوگ اپنے نئے خلیفہ کی بیعت کے لئے جمع ہوئے تو صرف اتنا اعلان کیا گیا کہ خلیفہ کے انتخاب کے جو قواعد مرزا بشیر الدین محمود نے اپنی زندگی میں مرتب کر دیے تھے ان کے مطابق مجلس انتخاب خلافت کا اجلاس ہوا۔اس میں دوسو پانچ نمائندے حاضر ہوئے اور انہوں نے مرزا ناصر احمد کو خلیفہ وقت مقرر کر کے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے۔یہ مجلس ۱۹۵۷ء میں بنائی گئی تھی اور اس میں بارہ مختلف زمروں کے لوگ نامزد کئے گئے تھے اس کے تین سو بیاسی ارکان میں سے قریباً ساٹھ تو احمدی فرقے کی مختلف تنظیموں کے عہدیدار تھے اور ۸۸ رکن ایسے افراد تھے جو کم از کم ایک سال کسی بیرونی ملک میں تبلیغ کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔مجلس کے ارکان کی باقی تعداد تمام تر مرزا غلام احمد کے پرانے ساتھیوں پر مشتمل تھی اور ان کے بھی دو درجے تھے ایک تو وہ لوگ جو مرزا صاحب کی زندگی میں ان پر ایمان لے آئے تھے اور ان کی وفات کے وقت تک جن کی عمر کم از کم بارہ سال تھی احمدی فرقے کی اصطلاح میں ان حضرات کو صحابہ“ کہا جاتا ہے۔مجلس انتخاب خلافت کی فہرست میں ایک سوا کا نوے نام درج تھے۔ان کے علاوہ چھپیں حضرات اس وصف کی بناء پر مجلس میں شامل کئے گئے کہ وہ مرزا غلام احمد کے ان رفقاء کے سب سے