تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 175 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 175

تاریخ احمدیت۔جلد 23 175 سال 1965ء ےے سال کی عمر میں ربوہ (مغربی پاکستان) میں سوموار کی صبح کو مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی کے انتقال سے تاریخ احمدیت کا ایک دور ختم ہو گیا۔ان کی جگہ ان کے سب سے بڑے بیٹے ۵۶ سالہ مرزا ناصر احمد کو جو آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایم اے ہیں ، جماعت کا تیسرا خلیفہ منتخب کیا گیا ہے۔انتقال سے بہت عرصہ پہلے خلیفہ دوم نے خلیفہ سوم کے انتخاب کیلئے ایک انتخابی ادارہ قائم کر دیا تھا، جس میں بانی سلسلہ احمدیہ کے خاندان کے افراد کے علاوہ صدر انجمن کے عہدہ دار اور اضلاعی شاخوں کے امیر شامل تھے ، ایک مقامی روز نامہ کی اطلاع کے مطابق مقابلہ دو امیدواروں میں تھا۔(نوٹ: خاندان سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حقیقی بیٹے تھے جو انتخاب خلافت ثالثہ کے وقت وفات پاچکے تھے۔) مرزا بشیر الدین محمود احمد نے ۱۹۱۴ء میں خلافت کی گدی پر متمکن ہونے کے بعد جس طرح اپنی جماعت کی تنظیم کی اور جس طرح صدر انجمن احمدیہ کو ایک فعال اور جاندار ادارہ بنایا اس سے ان کی بے پناہ تنظیمی قوت کا پتہ چلتا ہے۔اگر چہ ان کے پاس کسی یو نیورسٹی کی ڈگری نہیں تھی لیکن انہوں نے پرائیویٹ طور پر مطالعہ کر کے اپنے آپ کو واقعی علامہ کہلانے کا مستحق بنالیا تھا۔انہوں نے ایک دفعہ ایک انٹرویو میں مجھے بتایا تھا۔میں نے انگریزی کی مہارت ”سول اینڈ ملٹری گزٹ“ کے با قاعدہ مطالعہ سے حاصل کی۔ان کے ارشاد کے مطابق جب تک یہ اخبار خواجہ نذیر احمد کے دور ملکیت میں بند نہیں ہو گیا۔انہوں نے اس کا با قاعدہ مطالعہ جاری رکھا۔مرزا بشیر الدین محمود احمد نے اپنی عمر میں سات شادیاں کیں۔جن سے ۲۳ بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئے۔وہ تعدد ازدواج کے زبر دست حامی تھے۔اور سالانہ جلسہ کے موقع پر عورتوں اور مردوں کے اجتماع میں کھلے بندوں تعدد ازدواج کی ضرورت اور اہمیت بیان کرتے تھے۔مرزا صاحب ایک نہایت سلجھے ہوئے مقر ر اور منجھے ہوئے نثر نگار تھے اور ہر ایک موقع کو بلا دریغ استعمال کرتے تھے جس سے جماعت کی ترقی کی راہیں کھلتی ہوں۔جماعتی نقطہ نگاہ سے ان کا یہ ایک بڑا کارنامہ تھا کہ تقسیم برصغیر کے بعد جب قادیان ان سے چھن گیا تو انہوں نے ربوہ میں دوسرا مرکز قائم کر لیا ان کا یہ یقین واثق تھا کہ فتح کے ذریعے انہیں ان کا مرکز اول یعنی قادیان مل کر رہے گا۔یہ ایک وجہ تھی کہ نہ تو خود انہوں نے اور نہ ان کی جماعت کے لوگوں نے قادیان کے مکانوں کے کلیم داخل کئے۔“