تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 177 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 177

تاریخ احمدیت۔جلد 23 177 سال 1965ء بڑے لڑکے تھے جن کا ذکر مرزا صاحب نے ۱۹۰۱ء سے قبل اپنی کتابوں میں کیا تھا۔اس طرح اس مجلس کے ارکان کی کل تعداد تین سو بیاسی بنتی تھی لیکن ان میں سے ۱۷۷ یعنی ۳۸ فیصد سے زائد ارکان شریک اجلاس نہیں ہوئے۔جماعت احمدیہ کے ذمہ داران اس کی توجیہہ یہ کرتے ہیں کہ بیرونی ممالک میں جوار کان مقیم تھے وہ پہنچ نہیں سکے اور باقی لوگ بیمار تھے۔( یہ اعدادو شمار درست نہیں۔اصل تعداد ۲۴۱ تھی جس میں سے ۲۰۶ حاضر تھے اور باقی ۳۵ افراد بیرون ملک ہونے یا بیمار و معذور ہونے کی وجہ سے شریک نہ ہو سکے تھے۔ملاحظہ ہو الفضل ۱۷ نومبر ۱۹۶۵ء) مجلس انتخاب خلافت کا اجلاس ربوہ کی مسجد مبارک میں ۸ نومبر کو رات کے نو بجے شروع ہوا۔اس وقت مرزا بشیر الدین کے انتقال کو صرف انیس گھنٹے گزرے تھے اور ان کی میت مسجد کے قریب ہی قصر خلافت کے ایک کمرہ میں پڑی ہوئی تھی۔باہر ان کی زیارت کرنے والے عقیدتمندوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں اور ادھر مسجد کے ایک عقبی دروازے پر مجلس انتخاب کے ارکان کا ایک ہجوم تھا۔ایک ایک شخص کی با قاعدہ شناخت ہوتی تھی اور پھر اس کو اندر جانے کی اجازت دی جاتی تھی۔یہ سلسلہ تقریباً سات بجے سے شروع تھا اور دو گھنٹے جاری رہا۔اس دوران اور اجلاس کے اختتام تک مسجد کے تمام دروازے بند تھے کھڑکیاں اور روشن دان بھی بند تھے۔اور رائفلوں سے مسلح خدام پہرہ دے رہے تھے۔اجلاس ۵۵ منٹ جاری رہا۔اس دوران کیا کچھ ہوا اس کا علم مجلس کے ارکان کے سوا کسی کو نہیں اتنا معلوم ہوسکا کہ مرزا ناصر احمد کے علاوہ ایک نام اور تجویز کیا گیا تھا لیکن دوسو پانچ میں سے واضح اکثریت نے فیصلہ دیا کہ خلافت مرزا غلام احمد کے پوتے ہی کا حق ہے اس فیصلے کا جب اعلان کیا تو مجھے معاً تالمود کی پیشگوئی یاد آئی جس کے متعلق مجھے بتایا گیا تھا کہ مرزا غلام احمد نے اپنی کتابوں میں اس کا تذکرہ کیا تھا۔پیشگوئیاں درست ثابت کرنا احمدیہ فرقے کا بنیادی مشن ہے اور اس مشن کی وضاحت خود مرزا ناصر احمد صاحب نے انتخاب سے اگلے روز ایک مختصر ملاقات میں کی۔ان کا کہنا ہے کہ پیشگوئیوں کی سچائی منطق یا دلیل سے نہیں بلکہ معجزہ سے ثابت ہوتی ہے اور یہ سامان جماعت احمدیہ کے پاس موجود ہے۔مرزا صاحب نے کہا ہماری تحریک اس عقیدے پر قائم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانے میں اسلام کے دوبارہ غلبہ پانے کی پیشگوئی کی تھی اور اس کی تکمیل کے لئے ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ نے منتخب کیا ہے۔