تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 174
تاریخ احمدیت۔جلد 23 174 سال 1965ء کے بڑے صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود ۱۹۱۴ء میں خلیفہ ثانی منتخب ہوئے۔اب سے چند سال قبل جب مرزا صاحب کی صحت خراب ہوئی تو انہوں نے اپنے جانشین کے انتخاب کے لئے قواعد وضوابط مرتب کر دیے تھے۔احمد یہ جماعت کی مجلس شوری نے ۱۹۵۷ء میں ان قواعد وضوابط کی منظوری دے دی تھی۔احمد یہ جماعت کی مجلس انتخاب خلافت کا کل رات ربوہ میں اجلاس جس میں ۳۸۲ میں سے ۲۰۵ ارکان شریک ہوئے ( یہ اعداد و شمار درست نہیں۔اصل تعداد ۲۴ تھی جس میں سے ۲۰۶ رارکان حاضر تھے۔ملاحظہ ہو الفضل ۱۷ نومبر ۱۹۶۵ء) جوار کان مجلس کے اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے ان میں سے بیشتر غیر ملکی ارکان ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نئے خلیفہ کے انتخاب کے لئے دوامیدوار تھے۔اکثریت نے مرزا ناصر احمد کو ووٹ دیا۔یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ دوسرا نام کس کا تھا۔“ (نوٹ: اخبار کی خبر میں دو امیدوار لکھنا درست نہیں ہے۔مجلس انتخاب خلافت کمیٹی میں کوئی بھی امیدوار نہیں ہوتا۔کمیٹی کے ممبران اپنے نام کے سوا کسی دوسرے کا نام تجویز کرتے ہیں۔) ہے د تعمیر راولپنڈی۔۱۰ نومبر ۱۹۶۵ء: لا ہور ۸ نومبر۔احمد یہ فرقہ کے سر براہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کا آج صبح ربوہ میں انتقال ہو گیا ان کی عمرے سے سال تھی وہ کافی عرصہ سے علیل تھے انہیں کل ربوہ میں سپر د خاک کیا جائے گا۔وہ ۱۹۱۴ء میں احمدیہ فرقہ کے خلیفہ منتخب ہوئے تھے۔انہوں نے دنیا کے بیشتر ممالک اور خاص طور پر افریقہ، یورپ اور امریکہ میں احمدیہ مشن قائم کئے۔اس سلسلہ میں انہوں نے دوبار یورپ کا دورہ کیا۔انہوں نے بیرونی ممالک میں ۹۶ احمد یہ مشن قائم کئے اور اس طرح دنیا بھر میں احمدیہ مشنوں کی کل تعدا د۱۵۲ تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ۱۹۳۱ء میں شدھ تحریک کی سخت مخالفت کی تھی۔انہوں نے قرآن پاک کا ایک درجن سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا۔اور اس کے علاوہ بھاری تعداد میں گرانقدر ادبی سرمایہ چھوڑا۔اس کے علاوہ انہوں نے ۱۹۴۸ء میں کشمیر میں لڑنے کے لئے احمد یہ رضا کاروں کی ایک بٹالین تیار کی تھی۔پاکستان اور دنیا کے بیشتر ممالک سے جماعت کے ارکان اپنے امام کو آخری خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے بڑی تعداد میں ربوہ پہنچ رہے ہیں۔“ ہو نوائے وقت۔۱۰نومبر ۱۹۶۵ء: مشہور کالم نویس مش ( محمد شفیع ) لاہور کی ڈائری میں لکھتے ہیں:۔